’آئی فون کا پاس کوڈ سو ڈالر میں توڑا جا سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنے اس طریقے کی تفصیلات ڈاکٹر سرگے سکوروبوگاتوف نے ایک ویڈیو میں یوٹیوب پر شائع کی ہیں

ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ معروف کمپنی ایپل کے آئی فون کے پاس کوڈ کو کامیابی سے توڑنے کے لیے صرف ایک سو ڈالر لاگت کے آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی یونیورسٹی کیمبرج کے ایک طالب علم آئی فون کی میموری چپس کی نقل بنانے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد وہ آئی فون کے پاس کوڈ کو توڑنے کے لیے بے شمار کوششیں کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ آئی فون میں اگر آپ ایک حد سے زیادہ غلط پاس کوڈ ڈالیں تو فون میں موجود تمام فائلیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اس طالب علم کی جانب سے بے شمار کوششیں کرنے کی صلاحیت ایجاد کرنے سے آئی فون کا پاس کوڈ توڑنا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔

یہ تحقیق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ آئی فون کی چپس کی نقل کرنے سے یہ ممکن نہیں ہوگا۔

ایف بی آئی نے یہ دعویٰ اس وقت کیا تھا جب وہ سان برنارڈینو کے حملہ آور رضوان فاروق تک رسائی کے لیے عدالت سے استعدعا کر رہے تھے کہ اپیل کمپنی کو مجبور کیا جائے کہ وہ آئی فون کے کوڈ کو توڑنے کا راستہ حکام کو بتائیں۔

امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption آئی فون میں اگر آپ ایک حد سے زیادہ غلط پاس کوڈ ڈالیں تو فون میں موجود تمام فائلیں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں

یہ جوڑا حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارا گیا تھا اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔

ایف بی آئی کا خیال تھا کہ اس فون میں ان کے معاونوں کی معلومات تھیں۔ تاہم ایپل نے اپنے صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کو وجہ بنا کر ایف بی آئی کی مدد نہیں کی تھی۔ بعد میں اطلاعات آئی تھیں کہ ایف بی آئی نے ایک سیکیورٹی کمپنی کو اس فون سے معلومات نکالنے کے لیے دس لاکھ ڈالر دیے تھے۔

اب کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر سرگے سکوروبوگاتوف نے چار ماہ کی تحقیق کے بعد ایک ایسا راستہ نکال لیا ہے جس کے ذریعے وہ آئی فون کی میموری کی کاپی بنا سکتے ہیں اور اس کے بعد وہ پاس کوڈ کے لیے بے شمار کوششیں کر کے اسے توڑ سکتے ہیں۔ چار ہندسوں کے اس پاس کوڈ کو توڑنے میں انھیں چار گھنٹے لگتے ہیں۔

اپنے اس طریقے کی تفصیلات انھوں نے ایک ویڈیو میں یوٹیوب پر شائع کی ہیں۔

اسی بارے میں