سائیبر حملہ ’ریاست کی معاونت‘ سے ہوا: یاہو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انٹرنیٹ کمپنی یاہو کا کہنا ہے کہ جس سائیبر حملے میں ہیکرز نے اس کے 50 کروڑ صارفین کے اکاؤنٹس کی معلومات چوری کی وہ ’ریاست کی معاونت‘ سے ہوا۔

اس سے قبل انٹرنیٹ کمپنی یاہو نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز نے اس کے 50 کروڑ صارفین کے اکاؤنٹس کی معلومات چوری کر لی ہیں۔

٭ویرائزن کا یاہو کو خریدنے کا فیصلہ

٭ یاہو کا 15 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے تین امریکی انٹیلیجنس اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یہ حملہ ریاست کی مدد سے کیا گیا ہے کیونکہ ایسا ہی حملہ روسی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ ڈیٹا کی چوری سنہ 2014 کے اواخر میں ہوئی تھی اور اس میں ذاتی معلومات کے علاوہ سکیورٹی سوالات و جوابات بھی چوری ہوئے۔ تاہم اس میں صارفین کے کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ جولائی میں یاہو کو امریکی ٹیلی کام کمپنی ویرائزون نے چار ارب 80 کروڑ میں خریدا تھا۔ ابھی یہ معلوم نہیں کہ حالیہ چوری کا اس کی فروخت اور اہمیت پر کیا اثر مرتب ہوگا۔

یاہو پر ممکنہ طور پر بڑے حملے کی خبریں گذشتہ ماہ سامنے آنا شروع ہوئی تھیں جبکہ ’پیس‘ نامی ہیکر نے بظاہر 20 کروڑ اکاؤنٹس کی معلومات بیچنے کی کوشش کی تھی۔

جمعرات کو یاہو کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ یہ حملہ اور چوری ہونے والا مواد ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

کمپنی کی جانب سے صارفین کو تجویز دی گئی ہے کہ اگر انھوں نے سنہ 2014 سے اپنے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل نہیں کیے تو وہ انھیں تبدیل کر لیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں