’دنیا کی 92 فیصد آبادی فضائی آلودگی سے متاثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption ایک اندازے کے مطابق ہر سال 30 لاکھ اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا میں ہر دس میں سے نو افراد آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بقول دنیا کی 92 فیصد آبادی ایسے مقامات پر رہتی ہے جہاں کی فضا آلودہ ہے جس کے باعث لوگوں کو عارضہ قلب، کینسر اور پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں ہر تین میں سے دو اموات ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں اور غریب ممالک میں دن بہ دن صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

٭ ’فضائی آلودگی صحتِ عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘

٭ آلودگی کی پیمائش کا سافٹ ویئر تیار

ایک اندازے کے مطابق ہر سال 30 لاکھ اموات فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق گھروں کے اندرے ایندھن جلانے سے اندر کی فضا بھی آلودہ ہوتی ہے اور دنیا بھر میں ہر نو اموات میں سے ایک کی وجہ فضائی آلودگی ہوتی ہے۔

فضائی آلودگی کے چھوٹے ذرات انسانی خون میں داخل ہوکر دماغ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ترکمانستان وہ ملک ہے جہاں فضائی آلودگی کے باعث ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

ایسے پہلے پانچ ممالک میں تاجکستان، ازبکستان، افغانستان اور مصر بھی شامل ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے وابستہ ڈاکٹر کارلس ڈورا نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’مجموعی صورتحال یہ ہے کہ امیر ممالک میں فضا کو صاف کرنے میں کافی بہتری آ رہی ہے جبکہ غریب ممالک میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔‘

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ذرائع نقل وحمل اور کچرے کی آلودگی اور دوبارہ قابلِ استعمال توانائی کے استعمال سے فضائی آلودگی کم کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں