BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
امریکہ 2008
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 09:37 GMT 14:37 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
آیورویدک پروڈکٹس میں زہر؟
 
حالیہ برسوں میں مغرب میں بھی یہ پروڈکٹس کافی مقبول ہو چکی ہیں
امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر فروخت کی گئی ہر پانچ ہندوستانی آیورویدک پروڈکٹس میں سے ایک میں زہریلہ مادہ ہوتا ہے۔

بوسٹن یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں انٹرنیٹ پر فروخت کیےگئے 193 آیورویدک پروڈکٹس کا جائزہ لیا گیا اور دیکھاگیا کہ ان پروڈکٹس میں سے بیس فیصد میں سیسہ ، پارا یا پھر آرسینک موجود تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ سیسہ، پارا اور آرسنک جیسے مادے ہندوستان اور امریکہ دونوں جگہ بنائے گئے آیورویدک پروڈکٹس میں پائے گئے ہیں۔

ہندوستان میں ہزاروں سالوں سے آیورویدک پروڈکٹس استعمال میں لائی جاتی ہیں اور حالیہ برسوں میں مغرب میں بھی یہ پروڈکٹس کافی مقبول ہو چکی ہیں۔

آیرویدک پروڈکٹس میں جڑی بوٹیوں کے ساتھ دھاتیں اور منرلز یعنی معدنی اشیاء ملائی جاتی ہیں۔ ان پروڈکٹس کی حمایت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں صحیح مقدار اور احتیاط کے ساتھ بنایا جائے تو یہ بالکل مضر نہیں ہیں۔

 گزشتہ تیس برس میں اس قسم کے پروڈکٹس کے استعمال سے سیسے کے ذریعے زہر پھیلنے کے اسّی کیسز سامنے آئے ہیں
 
ڈاکٹر روبرٹ ساپیر، تحقیق کے سربراہی

لیکن بوسٹن یونیورسٹی میں ان ادویات پر کام کرنے والے ڈاکٹر روبرٹ ساپیر کا کہنا ہے گزشتہ تیس برس میں اس قسم کے پروڈکٹس کے استعمال سے سیسے کے ذریعے زہر پھیلنے کے اسّی کیسز سامنے آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہيں کہ آیورویدک پروڈکٹس کے کھانے پینے کی اشیاء کے متبادل کے طور پر استعمال سے متعلق سخت اصول ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔

ان میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس قسم کے زہریلے مواد کا ہر روز ایک مقررہ مقدار میں ہی استعمال کی جائے اور ساتھ ہی اس قسم کے پروڈکٹس بنانے والے خود کوالٹی کا خیال رکھیں۔

برطانیہ نے پہلے سے ہی رجسٹریشن کا نظام شروع کر دیا ہے۔ آئندہ تین برس میں بنا لائسنس آیورویدک پروڈکٹس فروخت کرنا غیر قانونی ہو جائے گا لیکن یہ اصول برطانیہ سے باہر اس قسم کی پروڈکٹس بنانے والی کمپنیوں پر نافذ نہیں ہوتے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد