|
آیورویدک پروڈکٹس میں زہر؟
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ پر فروخت کی گئی ہر پانچ ہندوستانی آیورویدک پروڈکٹس میں سے ایک میں زہریلہ مادہ
ہوتا ہے۔
بوسٹن یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق میں انٹرنیٹ پر فروخت کیےگئے 193 آیورویدک پروڈکٹس کا جائزہ لیا گیا اور دیکھاگیا کہ ان پروڈکٹس میں سے بیس فیصد میں سیسہ ، پارا یا پھر آرسینک موجود تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ سیسہ، پارا اور آرسنک جیسے مادے ہندوستان اور امریکہ دونوں جگہ بنائے گئے آیورویدک پروڈکٹس میں پائے گئے ہیں۔ ہندوستان میں ہزاروں سالوں سے آیورویدک پروڈکٹس استعمال میں لائی جاتی ہیں اور حالیہ برسوں میں مغرب میں بھی یہ پروڈکٹس کافی مقبول ہو چکی ہیں۔ آیرویدک پروڈکٹس میں جڑی بوٹیوں کے ساتھ دھاتیں اور منرلز یعنی معدنی اشیاء ملائی جاتی ہیں۔ ان پروڈکٹس کی حمایت کرنے والوں
کا دعویٰ ہے کہ اگر انہیں صحیح مقدار اور احتیاط کے ساتھ بنایا جائے تو یہ بالکل مضر نہیں ہیں۔
لیکن بوسٹن یونیورسٹی میں ان ادویات پر کام کرنے والے ڈاکٹر روبرٹ ساپیر کا کہنا ہے گزشتہ تیس برس میں اس قسم کے پروڈکٹس کے استعمال سے سیسے کے ذریعے زہر پھیلنے کے اسّی کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس بات کا ثبوت ہيں کہ آیورویدک پروڈکٹس کے کھانے پینے کی اشیاء کے متبادل کے طور پر استعمال سے متعلق سخت اصول ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس قسم کے زہریلے مواد کا ہر روز ایک مقررہ مقدار میں ہی استعمال کی جائے اور ساتھ ہی اس قسم کے پروڈکٹس بنانے والے خود کوالٹی کا خیال رکھیں۔ برطانیہ نے پہلے سے ہی رجسٹریشن کا نظام شروع کر دیا ہے۔ آئندہ تین برس میں بنا لائسنس آیورویدک پروڈکٹس فروخت کرنا غیر قانونی ہو جائے گا لیکن یہ اصول برطانیہ سے باہر اس قسم کی پروڈکٹس بنانے والی کمپنیوں پر نافذ نہیں ہوتے ہیں۔ |
اسی بارے میں
آیورویدک دوا الزائمر کے لیۓ مفید05 September, 2006 | نیٹ سائنس
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||