|
’مکھیوں کو تیز دماغ بچا لیتا ہے‘
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ عقدہ حل کر لیا ہے کہ مکھیوں کو مارنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے۔
ماضی میں مکھیوں کی بچنے کی صلاحیت کے بارے میں مختلف توجیہات پیش کی جاتی رہی ہیں۔ تاہم اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مکھیاں اپنے تیز دماغ اور قبل از وقت منصوبہ بندی کی صلاحیت کی وجہ سے بچ جاتی ہیں۔ اس بات کا پتہ انتہائی تیز رفتار پر بہترین ریزولیوشن والی ویڈیوز سے چلا جس نے یہ ثابت کیا کہ کس طرح مکھیاں آنے والے خطرے سے خبردار ہو کر فرار کی راہ متعین کر لیتی ہیں۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مکھیوں کو مارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف ان کے قریب آہستگی سے جایا جائے بلکہ جہاں وہ بیٹھی ہیں اس مقام سے ذرا آگے نشانہ لگایا جائے۔ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے اپنے تجربات کے دوران مکھیوں کی متعدد فلمیں بنائیں جس سے یہ پتہ چلا کہ مکھیاں جس مقام پر بھی بیٹھتی ہیں وہاں بیٹھنے سے پہلے ہی کسی حملے کی صورت میں فرار کا راستہ تلاش کر لیتی ہیں۔ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مکھیاں چاہے خوراک حاصل کر رہی ہوں یا پھر ویسے ہی چل رہی ہوں ان کا ردعمل ہر حالت میں قریباً ایک جتنا تیز ہوتا ہے۔ امریکی سائنسدان پروفیسر مائیکل ڈکنسن کے مطابق اس سے مکھی کی دماغ کی تیزی اور پیچیدگی کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجربات سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ مکھیاں یہ بات بھی جان جاتی ہیں کہ حملے کی صورت میں انہیں کس قدر جسمانی حرکت کی ضرورت ہوگی۔ |
اسی بارے میں
پھول لہرا کر کیڑوں کو بلاتے ہیں08 May, 2008 | نیٹ سائنس
بارودی سرنگیں ڈھونڈتی مکھیاں31 May, 2007 | نیٹ سائنس
کیڑوں جیسی مصنوعی آنکھ28 April, 2006 | نیٹ سائنس
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||