’دوسری طرح کی اننگز بڑے پلیئرز دے سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹی ٹوئنٹی کی پیدائش کے بعد کرکٹ کی صحت پر جو سائیڈ ایفیکٹس ہوئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بولنگ کا زوال اور بیٹنگ کا عروج ہے۔ کرکٹ کا اصل حسن فاسٹ بولنگ ہے۔ وسیم اکرم کے ان سوئنگ یارکر سے خوبصورت کیا منظر ہو سکتا ہے؟

بلے بازوں کو اختیار تو چلیے مل ہی گیا مگر استعمال کس طرح سے ہوا؟

ماڈرن کرکٹ میں بیٹ اور بال کے رشتے میں عزت ختم ہو چکی ہے۔ صرف مقابلہ باقی ہے، تعلق ٹوٹ چکا، رومانس غائب ہو چکا، بیٹنگ کا آرٹ نایاب ہو گیا۔

شارجہ میں بابر اعظم کی اننگز کو سامنے رکھیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم نے سنچری سکور کی

ایک اننگز یوں ہو سکتی تھی کہ بابر اعظم آتے، اپنے حصے کے چند رنز بٹورتے، بلا ہوا میں لہراتے لہراتے پویلین لوٹ جاتے۔ وقت کم لگتا، گرمی کم لگتی، زور بھی کم لگتا۔ چوکوں چھکوں کی برسات دیکھ کر لوگ جھوم جھوم ان کے نعرے لگاتے اور وحشت ان کے نام کا حصہ بن جاتی۔ لوگ انھیں جیتے جی پوجنے لگتے۔ وہ قومی ہیرو بن جاتے۔ دنیا بھر میں وہ کہیں بھی میدان میں پاوں دھرتے، لوگ چھکوں والے پلے کارڈز لہرانے لگتے۔ وہ اگلے 20 سال تک ٹیم کا اٹوٹ انگ اور قوم کی دھڑکن ٹھہرتے۔

دوسری اننگز کچھ یوں ہو سکتی تھی کہ وہ آتے، میچ کی نبض کو بھانپتے، وکٹ سے مانوس ہوتے، اور وکٹ پر ڈیرے ڈال دیتے۔ فیلڈ میں کھڑے 11 لوگوں کے اعصاب پر سوار ہو جاتے۔ اپنی وکٹ پر حملہ آور 11 لوگوں کو شکست دے دیتے۔

مگر اس میں وقت لگتا ہے اور اکثر پاکستانی بلے بازوں کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پہلی طرح کی اننگز اس قوم نے پچھلے سالوں میں بہت زیادہ دیکھی ہیں۔ دوسری طرح کی اننگز بہت کم دیکھی ہیں۔ شارجہ میں بابر اعظم نے دوسری طرح کی اننگز کھیلی۔

انگلینڈ کے ٹور میں انھوں نے پہلی طرح کی اننگز کھیلیں۔ لیکن یہاں انھوں نے اپنی وکٹ کی قدر کی اور میچ جتوانے والی اننگز کھیلی۔

اگر بیٹسمین کو بطور ٹیم مین جانچنا ہو تو یہ دیکھیے کہ وہ 50 کرنے کے بعد اگلی چھ گیندیں کیسے کھیلتا ہے۔ شرجیل نے اگلی چھ گیندوں کا انتظار نہیں کیا، بابر 50 کے بعد بھی میچ پر طاری رہے۔

اچھا کھلاڑی وہ ہوتا ہے جو اچھی گیم سے میچ کا رخ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ بڑا کھلاڑی وہ ہوتا ہے جو میچ پر حاوی ہو کر اس کا رخ بدل دیتا ہے۔ سینچری کرنے کے بعد اگلی چھ گیندوں میں بیٹسمین میں قسمت اور ٹیلنٹ، دونوں کی مقدار نظر آ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی بیٹنگ کی نیا کو اگر ماڈرن کرکٹ کے اس پار پہنچنا ہے تو اسے بڑے کھلاڑی پیدا کرنا ہوں گے۔ ایک بڑے کھلاڑی کی ایک اچھی اننگز میچ جیت سکتی ہے۔

اس ایک اننگز کا خاتمہ جب ایک خوبصورت کیچ سے ہوا تب تک ویسٹ انڈیز نفسیاتی طور پر میچ ہار چکا تھا۔ فلڈ لائٹس آن ہونے کے بعد اس نے ایک بار پھر حملہ کرنے کی کوشش کی مگر تب تک بابر کی اننگز اپنا کام دکھا چکی تھی۔

پہلی طرح کی اننگز اچھے پلئیر دے سکتی ہے۔ دوسری طرح کی اننگز بڑے پلیئر دے سکتی ہے۔ نہ صرف میچ جتا سکتی ہے بلکہ میچ کو یادگار بھی بنا سکتی ہے۔ بابر اعظم کو یہ اننگز یاد رہے گی اور اس میچ کو بابر اعظم یاد رہیں گے۔

امید کیجے ایسی اننگز پاکستانی بیٹنگ کا مستقبل ہوں۔

اسی بارے میں