مسئلہ رکنے کا ہے یا روکنے کا؟

shoaib malik تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماڈرن کرکٹ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ بیٹسمین کو بھی اوسط کی بجائے سٹرائیک ریٹ کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے

گذشتہ چند برسوں میں کرکٹ نے جس تیزی سے تبدیلیاں دیکھی ہیں، اب اگر کل کلاں یہ سننے کو ملے کہ ایک بولر ایک اوور میں دو سے زیادہ ’ڈاٹ بالز‘ نہیں پھینک سکتا تو کچھ خاص حیرت نہیں ہو گی۔

ٹی 20 میں تو چلیے سمجھ آتا ہے کہ جو بالر اپنی گنتی کی 24 گیندوں میں سے دس گیندوں پہ سکور نہ ہونے دے، وہ واقعی قابل ذکر ہے مگر ون ڈے تو کرکٹ کا میچیور فارمیٹ ہے۔

لیکن اب ون ڈے میں بھی بولر اپنا دوسرا سپیل کرانے آتا ہے تو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس نے اب تک کتنی ڈاٹ بالز کی ہیں یعنی اس کی کتنی گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا۔

بولر کے سپیل میں اس کی وکٹوں، اوسط، سٹرائیک ریٹ اور بولنگ کے معیار سے زیادہ اہم یہ ہو چکا ہے کہ اس نے کتنی ڈاٹ بالز پھینکیں۔

شارجہ میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین دوسرے میچ میں 600 گیندوں پہ 615 رنز بنائے گئے۔ ان 600 گیندوں میں سے لگ بھگ ڈھائی سو ڈاٹ بولز تھیں۔

پاکستان کے ون ڈے کرکٹ کے زوال پہ تبصرے ہم سنتے چلے آ رہے ہیں۔ مصباح الحق کے طبعی خواص کے علاوہ اگر کھیل کے پہلوؤں کو کہیں زیر بحث لایا گیا ہے تو ان میں ایک بڑی بحث یہ رہی ہے کہ ہمارے بیٹسمین ڈاٹ بالز زیادہ کھیلتے ہیں اور سٹرائیک ’روٹیٹ‘ نہیں کرتے۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ وجہ گیندیں روکنا ہے یا خود وکٹ پہ نہ رکنا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی بیٹنگ کی سابقہ ناکامیوں کی بنیادی وجہ ڈاٹ بولز یا روٹیشن آف سٹرائیک سے کہیں زیادہ پارٹنرشپس نہ ہونا تھی

پاکستان نے شارجہ کی اننگز میں 108 ڈاٹ بولز کھیلیں لیکن اس کے باوجود 337 رنز کا مجموعہ بورڈ پہ سجایا۔ میچ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ کے لیے بابر اعظم اور شعیب ملک نے مجموعی طور پہ قریب 70 ڈاٹ بولز کھیلیں لیکن 171 گیندوں پہ 169 رنز کر ڈالے اور اس میں 60 سے زیادہ سنگلز تھے۔

سوال یہ ہے کہ ڈاٹ بال کھیلنا اتنا معیوب کیوں سمجھا جانے لگا ہے۔ بجا کہ لوگ ہر بال پہ کوئی ڈرائیو، سٹروک، ہک یا پل دیکھنا چاہتے ہیں مگر بولر کو بھی کہیں تو سانس لینے دیجیے۔ آخر کیا ہے کہ یارکرز اور باؤنسرز جیسی خوبصورتیاں بکھیرنے والے آرٹ کا مقصد اب صرف رنز روکنا ہی رہ گیا ہے۔

جدید کرکٹ کی عجب ستم ظریفی ہے کہ بیٹسمین کو بھی اوسط کی بجائے سٹرائیک ریٹ کے ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔ حالانکہ کرکٹ کی خوبصورت ترین شاٹس نسبتا کم سٹرائیک ریٹ والے مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے بلے سے ہی نکلتی ہیں۔ راہول ڈریوڈ تو چلیے ماڈرن کرکٹ کی گنتی میں شاید نہ آ سکیں مگر سنگاکارا، یونس خان، فاف ڈوپلیسی اور اجنکیا ریہانے کے سٹروکس وارنر، میکسویل یا شرجیل خان کی بیٹنگ میں کیوں نہیں دکھائی دیتے؟

جو بیٹسمین ڈاٹ بال کھیلنا نہیں جانتا، وہ وکٹ پہ رک نہیں سکتا۔ جو وکٹ پہ رکنا نہیں سیکھتا، وہ کبھی بڑی پارٹنرشپ نہیں بنا سکتا۔ پاکستانی بیٹنگ کی سابقہ ناکامیوں کی بنیادی وجہ ڈاٹ بالز یا روٹیشن آف سٹرائیک سے کہیں زیادہ پارٹنرشپس نہ ہونا تھی۔

شعیب ملک اور بابر اعظم نے پارٹنرشپ شروع کی تو پاور پلے کی اگلی 29 گیندوں پہ صرف 15 رنز بنے لیکن اس کے بعد اگلی تیس گیندوں پہ 32 رنز بن گئے۔ بڑی پارٹنرشپ ہمیشہ دھیرے دھیرے رفتار پکڑتی ہے اور میچ کا فیصلہ کر دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جو بیٹسمین ڈاٹ بال کھیلنا نہیں جانتا، وہ وکٹ پہ رک نہیں سکتا

مسئلہ تب ہوتا ہے کہ ڈاٹ بالز تو کھیلی جائیں مگر ان کی بنیاد پہ کھیل نہ بنایا جا سکے۔ یہ ویسٹ انڈیز کے ساتھ ہوا۔ بریتھ ویٹ اور براوو نے بھی ڈاٹ بالز کھیلیں لیکن پارٹنرشپ چلا نہ پائے۔ اگر پارٹنرشپ بن جاتی تو میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ نوآموز پاکستانی ٹیم ’اٹیکنگ کرکٹ‘ کی بجائے اچھی کرکٹ کھیل کر ماڈرن گیم کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہر میچ میں کچھ نہ کچھ ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ کلاسکس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ بابر اعظم اور شعیب ملک کی پارٹنرشپ نے چیمپیئنز ٹرافی 2009 میں بھارت کے مد مقابل چوتھی وکٹ کے لیے محمد یوسف اور شعیب ملک کی پارٹنرشپ یاد دلا دی۔

یہ تو معلوم نہیں کہ ماڈرن کرکٹ ہمیں کیا کیا دکھلائے گی مگر یہ طے ہے کہ کچھ چیزوں کی اہمیت ہمیشہ یونہی رہے گی اور ان میں سے ایک بنیادی چیز وکٹ پہ رکنا ہے اور یہی پاکستان کی بیٹنگ کا روگ رہا ہے تاہم شارجہ کی اس پارٹنرشپ سے امید جھلکتی ہے۔

امید کیجیے کہ یہ امید ٹوٹنے نہ پائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں