تیسرا ون ڈے: پاکستان اور ویسٹ انڈیز ابوظہبی میں مدِمقابل ہوں گی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر پاکستانی ٹیم تیسرا ون ڈے بھی جیت گئی تو اس صورت میں وہ ایک روزہ میچوں کی عالمی رینکنگ میں نویں سے آٹھویں نمبر پر آ جائے گی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ون ڈے کرکٹ میچوں کی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ بدھ کو ابوظہبی میں کھیلا جائے گا۔

پاکستان کو اس سیریز میں دو صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔ اس نے شارجہ میں کھیلے جانے والے میچ 111 اور 59 رنز سے جیتے تھے۔

٭ پاکستان دوسرے ون ڈے میں بھی کامیاب، کلین سویپ پر نظریں

٭ مسئلہ رکنے کا ہے یا روکنے کا؟

اگر پاکستانی ٹیم تیسرا ون ڈے بھی جیت گئی تو اس صورت میں وہ ایک روزہ میچوں کی عالمی رینکنگ میں نویں سے آٹھویں نمبر پر آ جائے گی۔

پاکستانی ٹیم کو تیسرے میچ میں فاسٹ بولر محمد عامر کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو اپنی والدہ کی بیماری کے سبب وطن واپس آ رہے ہیں۔

مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اعظم نے دونوں میچوں میں سنچریاں بناتے ہوئے پاکستان کی جیت میں کلیدی ادا کیا ہے۔ انھوں نے پہلے میچ میں 120 جب کہ دوسرے میچ میں 123 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

بابر اعظم کے علاوہ شعیب ملک اور وکٹ کیپر سرفراز احمد بھی اچھی فارم میں ہیں لیکن کپتان اظہرعلی کی بیٹنگ فارم ٹیم منیجمنٹ کے لیے فکر کا باعث بنی ہوئی ہے جو دونوں میچوں میں دوہرے ہندسے میں آئے بغیر آؤٹ ہوئے ہیں۔

فاسٹ بولر وہاب ریاض کو ون ڈے انٹرنیشنل میں وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے لیے دو وکٹیں درکار ہیں۔ وہ یہ سنگ میل عبور کرنے والے 19 ویں پاکستانی بولر بن سکتے ہیں۔

پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تینوں میچوں میں شکست کے بعد ون ڈے سیریز میں بھی وائٹ واش کی تلوار ویسٹ انڈیز کے سر پر لٹک رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز کی اس دورے میں مایوس کن کارکردگی نے ظاہر کردیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات اور مسائل سے بری طرح پریشان ہے۔

دورے پر آنے سے قبل کپتان ڈیرن سیمی کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا اور فل سمنز کو بھی کوچ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم سنہ 2008 کے بعد ابوظہبی میں پہلی بار ون ڈے میچ کھیل رہی ہے۔

سنہ 2008 میں کھیلی گئی سیریز کے تینوں میچوں میں اسے شکست ہوئی تھی لیکن اس سیریز میں کرس گیل نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے دو سنچریاں سکور کی تھیں۔

پاکستان نے ابوظہبی میں 29 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں جن میں اس نے 13 جیتے اور 16 میچوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں