اظہر علی کے 300 رنز، ویسٹ انڈیز کا ایک کھلاڑی آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اظہرعلی نے 469 گیندوں پر 302 رنز کی یادگار اننگز کھیلی جس میں 23 چوکے اور دو چھکے شامل تھے

دبئی میں پاکستان کی تاریخ کے 400 ویں میچ میں اظہر علی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 300 رنز بنائے اور ناقابلِ شکست رہے۔

پاکستان نے تین وکٹوں کے نقصان پر 579 رنز پر اننگز ڈیکلیئر کر دی اور جواب میں ویسٹ انڈیز نے دوسرے دن کے اختتام پر ایک وکٹ کے نقصان پر 69 رنز بنائے ۔

تفصیلی سکور کارڈ

دبئی میں ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کا پہلا روز تصاویر میں

دبئی ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستان کی عمدہ بیٹنگ، ایک وکٹ پر 279 رنز

پاکستان کو پہلی کامیابی سپنر یاسر شاہ نے دلائی جنھوں نے جانسن کو 15 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔

اس سے پہلے اظہرعلی نے 469 گیندوں پر 302 رنز کی یادگار اننگز کھیلی جس میں 23 چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ وہ ڈے نائٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی سینچری، پہلی ڈبل سینچری اور پہلی ٹرپل سینچری بنانے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

وہ حنیف محمد، انضمام الحق اور یونس خان کے بعد ٹرپل سینچری بنانے والے چوتھے پاکستانی بلےباز بن گئے ہیں۔

اظہر علی کے ساتھی بلے باز اور کپتان بس اظہر کی ٹرپل سینچری کا انتظار کر رہے تھے اور جیسے ہی اظہر نے بلیک وڈ کی گیند پر چوکا لگا کر یہ سنگِ میل عبور کیا، انھوں نے اننگز ختم کرنے کا اعلان کر لیا۔ مصباح 29 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

دوسرے روز پاکستان کے دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔ پہلے اسد شفیق 67 رنز بنا کر دویندرا بشو کی گیند پر خود انھی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے بابر اعظم نے پراعتماد انداز سے بیٹنگ کرتے ہوئے 69 رنز سکور کیے۔ انھیں بشو کی گیند پر ہولڈ نے کیچ آؤٹ کیا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گذشتہ سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایڈیلیڈ میں جو ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کھیلا گیا تھا اس میں کوئی سنچری نہیں بن سکی تھی۔

اظہر علی نے سمیع اسلم کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 215 رنز کا اضافہ کیا جو دبئی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سب سے بڑی اوپننگ شراکت بھی ہے۔

سمیع اسلم صرف دس رنز کی کمی سے اپنی پہلی سنچری مکمل نہ کر سکے۔

دونوں ٹیمیں پہلی بار ڈے نائٹ ٹیسٹ اور گلابی گیند کے ساتھ کھیلنے کے تجربے سے آشنا ہوئی ہیں تاہم ویسٹ انڈین بولرز دبئی سٹیڈیم میں گلابی گیند کے ساتھ پاکستانی بیٹسمینوں کو مرعوب کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ کی کشش بھی شائقین کو دبئی اسٹیڈیم میں نہ لا سکی اور سٹیڈیم پہلے دن تماشائیوں سے خالی رہا۔

مصباح الحق نے ٹاس جیت کر ایک آسان وکٹ پر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

بابر اعظم اور محمد نواز کو اس میچ میں ٹیسٹ کیپ دی گئی ہے۔

سمیع اسلم اور اظہرعلی نے گلابی گیند پر ابتدا میں خاصی محتاط بیٹنگ کی لیکن پھر وہ ویسٹ انڈین بولنگ پر حاوی ہوتے چلے گئے۔

یہ دونوں جنوبی افریقہ کے گریم سمتھ اور ایلویرو پیٹرسن کی 153 رنز کی اوپننگ شراکت کو پیچھے چھوڑگئے جو دبئی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سب سے بڑی اوپننگ شراکت کا ریکارڈ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمیع اسلم اپنی اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے

اپنا 50واں ٹیسٹ کھیلنے والے اظہر علی اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ 17 کےانفرادی سکور پر کمنز کی گیند پر گلی پوزیشن پر لیون جانسن نے ان کا کیچ ڈراپ کر دیا۔

تاہم انھوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اننگز کھیلی کس کا بڑے بڑے کھلاڑی صرف خواب دیکھتے ہیں۔

اسی بارے میں