دبئی ٹیسٹ میں اظہرعلی کی ٹرپل سنچری، ویسٹ انڈیز پر زبردست دباؤ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption متحدہ عرب امارات میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے بڑے سکور کا ریکارڈ بھی اظہر کے نام ہو گیا

اظہر علی کی شاندار ٹرپل سنچری نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم بنا دی۔

اظہر علی ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سنچری بنانے والے چوتھے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔ ان سے قبل حنیف محمد۔ انضمام الحق اور یونس خان یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

دبئی میں ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ کا دوسرا روز تصاویر میں

پاکستان نے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز 579 رنز تین کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی۔

اظہرعلی 302 اور کپتان مصباح الحق 29 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔ کھیل ختم ہونے پر ویسٹ انڈیز نے 69 رنز بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔

فالو آن سے بچنے کے لیے اسے اب بھی 311 رنز درکار ہیں۔

اظہر علی اور اسد شفیق نے پاکستان کی اننگز 279 رنز ایک کھلاڑی پر شروع کی تو دونوں بیٹسمین پہلے دن کی طرح خاموشی سے آگے بڑھتے ہوئے دکھائی دیے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 71ویں اوور کے بعد پہلا چوکا 102 ویں اوور میں لگا۔

ویسٹ انڈین بولنگ ایک بار پھر بیٹسمینوں پر کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکی تاہم اسد شفیق کو اپنی وکٹ کھونے کا ہمیشہ دکھ رہے گا جو بڑے اعتماد سے سنچری کی طرف بڑھ رہے تھے لیکن 67 رنز کے انفرادی سکور پر دیوندرا بشو کی گیند پر انہی کے ہاتھوں کیچ ہوکر یہ موقع گنوا دیا۔

اسد شفیق اور اظہر علی نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 137 رنز کا اضافہ کیا۔

یہ ان دونوں کے درمیان 13 اننگز میں تیسری سنچری شراکت تھی۔

اظہر علی جنھوں نے پہلے دن 17 کے انفرادی سکور پر کیچ ڈراپ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سنچری مکمل کی تھی دوسرے دن 190 کے سکور پر روسٹن چیس کی گیند پر سلپ میں بلیک ووڈ کے ہاتھوں کیچ نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کی دوسری ڈبل سنچری مکمل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اظہرعلی نے اس اننگز کے دوران چند اہم سنگ میل بھی ریکارڈ بک میں درج کرا دیے۔

اس اننگز سے قبل ان کا ٹیسٹ میں بہترین انفرادی سکور 226 تھا جو انھوں نے گذشتہ سال بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکہ میں بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابر اعظم نے بھی پراعتماد انداز میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ کا آغاز

اظہر علی نے دبئی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچوں میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے بڑے سکور کا ریکارڈ اپنے نام کیا جو جنوبی افریقہ کے گریم سمتھ نے2013 ء میں پاکستان کے خلاف 234 رنز بنا کر قائم کیا تھا۔

اس کے بعد متحدہ عرب امارات میں کسی بھی بیٹسمین کے سب سے بڑے سکور کا ریکارڈ بھی ان کے نام ہو گیا جو اس سے قبل جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے پاکستان کے خلاف 278رنز بنا کر قائم کیا تھا۔

اظہر علی ٹیسٹ کرکٹ میں چار ہزار رنز مکمل کرنے والے 10ویں پاکستانی بیٹسمین بھی بن گئے۔

ویسٹ انڈیز کے خلاف تینوں ون ڈے میچوں میں سنچریاں بنانے کے بعد بابر اعظم کا اعتماد آسمان کو چھو رہا ہے ۔کسی بھی موقع پر یہ محسوس نہیں ہوا کہ جیسے وہ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہوں۔

انھوں نے اپنی نصف سنچری تین چوکوں کی مدد سے مکمل کی لیکن اپنے اولین ٹیسٹ کو سنچری سے یادگار بنانے کی خواہش پوری کرنے سے پہلے ہی وہ 69 رنز پر دیویندرا بشو کی گیند پر ہولڈر کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

انھوں نے اظہر علی کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 165 رنز کا اضافہ کیا۔

یہ اس اننگز میں مسلسل تیسری سنچری پارٹنرشپ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویسٹ انڈین بولنگ ایک بار پھر بیٹسمینوں پر کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکی

یہ تیسرا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم نے کسی ٹیسٹ میچ میں پہلی تین وکٹ کے لیے سنچری شراکتیں قائم کی ہیں۔

مصباح الحق نے اظہرعلی کی ٹرپل سنچری مکمل ہوتے ہوئے اننگز ڈکلیئر کر دی۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے دیویندرا بشو نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز کو پاکستان کے بھاری بھرکم سکور کا جواب دینے کے لیے جس اچھی بنیاد کی ضرورت تھی وہ اسے نہ مل سکی اور لیون جانسن صرف پندرہ رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے ۔

کھیل کے اختتام پر کریگ بریتھ ویٹ 32 اور ڈیرن براوو 14 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں