’ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کو ابھی وقت دینا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وقار یونس نے کہا کہ اگر اہداف پورے ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کامیاب ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اپنے دور کے تیز ترین فاسٹ بولر وقاریونس کا کہنا ہے کہ اگر ڈے نائٹ ٹیسٹ کھیلنے سے کرکٹ میں بہتری آتی ہے تو اسے ضرور جاری رہنا چاہیے لیکن اس کے لیے کرکٹ کے قوانین کو چھیڑنا مناسب نہ ہوگا۔

وقاریونس پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کی کوریج کے لیے ان دنوں دبئی میں موجود ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ ابھی تجرباتی طور پر شروع ہوئی ہے لہذا اس سے ابھی سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلینا درست نہیں ہوگا۔

وقار یونس نے کہا کہ ’ابھی تو یہ دیکھنا ہے کہ یہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے یا نہیں اور ٹی وی پر دیکھنے والوں اور سپانسرز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں؟‘

انھوں نے کہا کہ اگر یہ تمام اہداف پورے ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کامیاب ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر روایتی ٹیسٹ کرکٹ کی طرف ہی واپس لوٹنا پڑے گا، جس کی خوبصورتی سفید لباس اور سرخ گیند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلابی گیند پاکستان میں بنائی جا رہی ہے

وقاریونس نے کہا کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کو ابھی وقت دینا ہوگا،مزید میچز سے صورتحال واضح ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اگر شام کو ٹیسٹ میچز کھیلے جانے سے کرکٹ کی بہتری ہوتی ہے تو یقیناً یہ ایک اچھی چیز ہے لیکن اس کے لیے کرکٹ کے قوانین میں چھیڑچھاڑ سے گریز کرنا ہوگا جیسا کہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے قوانین اور پلیئنگ کنڈیشنز میں بہت زیادہ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

ان کے مطابق ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی حد تک تو یہ تبدیلیاں سمجھ میں آتی ہیں کہ یہ دونوں تیز فارمیٹس ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں اس طرح کی کوئی بھی تبدیلی مناسب نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں