’گلابی گیند سے روایتی یا ریورس کوئی سوئنگ نہیں ہو رہی: وہاب ریاض

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی فاسٹ بولر وہاب رہاض نے بولنگ کے دوران ڈینجر زون میں آنے کی اپنی عادت کے بارے میں کہا کہ یہ نفسیاتی طور پر اثرانداز ضرور ہوتی ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ گلابی گیند سے بولنگ کرنا ایک مختلف تجربہ ہے اور یہ آسان نہیں ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہا کہ گلابی گیند سے بولنگ کرتے ہوئے خاص طور پر رات کے وقت بہت مشکل ہو رہی ہے کیونکہ اوس کی وجہ سے گیند گیلی ہو کر نرم پڑجاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں گیند سے نہ تو روایتی سوئنگ ہو رہی ہے اور نہ ہی ریورس سوئنگ۔

وہاب نے میچ کے تیسرے دن اپنی شاٹ پچ گیندوں سے ویسٹ انڈین بلے بازوں کو خاصا پریشان کیا اور ٹیم کے لیے دو وکٹیں بھی لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سینیئر بولر کی حیثیت سے انھیں اس بات کا احساس رہتا ہے کہ انھیں اچھی پرفارمنس دینی ہے اور لوگوں کی توقعات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ پیس اٹیک کو جس میں ان کے علاوہ سہیل خان اور محمد عامر شامل ہیں ڈومیسٹک کرکٹ کا اچھا خاصا تجربہ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب کسی بولر کو کامیابی حاصل نہ ہو تو وہ اپنے ساتھی بولر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے کوئی نہ کوئی کارآمد مشورہ ضرور دے۔

ان کے خیال میں یہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ وہ ہمیشہ محمد عامر کے ساتھ فیلڈ میں گفتگو کرتے رہتے ہیں اور انھیں کوئی نہ کوئی مشورہ ضرور دیتے رہتے ہیں جو ان کے کام آسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلابی گیند پاکستان میں بنائی جا رہی ہے

وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ کرکٹر کے لیے ہر دن اچھا نہیں ہوتا کبھی قسمت آپ کا ساتھ دیتی ہے اور کبھی نہیں، لیکن ایک پروفیشنل کرکٹر کی حیثیت سے انھیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہے کہ ہمت نہیں ہارنی ہے۔

پاکستانی فاسٹ بولر وہاب رہاض نے بولنگ کے دوران ڈینجر زون میں آنے کی اپنی عادت کے بارے میں کہا کہ یہ نفسیاتی طور پر آپ پر اثر انداز ضرور ہوتی ہے۔

وہ جب کریز کا استعمال کرتے ہیں تو ان کا پیر ڈینجر ایریا میں پڑجاتا ہے لیکن وہ اس صورتحال سے پریشان نہیں ہیں۔

وہاب ریاض نے البتہ یہ تسلیم کیا کہ یہ بات ضرور ان کے لیے پریشان کن ہے کہ وہ وکٹ لے لیتے ہیں لیکن وہ گیند نو بال ہوجاتی ہے اس خامی کو دور کرنے کے لیے وہ محنت کررہے ہیں اور انھیں امید ہے کہ وکٹ لینے والی گیند نو بال نہ ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں