پاکستان کا ریکارڈ انڈیا سے بہتر

پاکستان کرکٹ ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان نے اپنی 64 سالہ مختصر تاریخ میں نہ صرف اپنے سے بڑی ٹیموں کے خلاف اہم فتوحات حاصل کی ہیں بلکہ ان بڑی ٹیموں کو انہی کے میدانوں میں بھی زیر کیا ہے

کسی بھی ٹیم کے کامیاب ہونے کا ثبوت صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ اعداد و شمار ٹیم کی کارکردگی کا پتہ ضرور دیتے ہیں لیکن اسے پرکھنے کا سیدھا پیمانہ یہ ہے کہ اس ٹیم کا معیار کیا ہے؟ اس نے اپنے سے بڑی ٹیموں کے خلاف کتنی اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اپنے میدانوں سے باہر اس نے کتنی زیادہ کامیابیاں سمیٹی ہیں۔

پاکستان کو اس پیمانے پر پرکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کی ایک انتہائی اہم ٹیم ہے جس نے اپنی 64 سالہ مختصر تاریخ میں نہ صرف اپنے سے بڑی ٹیموں کے خلاف اہم فتوحات حاصل کی ہیں بلکہ ان بڑی ٹیموں کو انہی کے میدانوں میں بھی زیر کیا ہے۔

٭ ’گلابی گیند اور وکٹ کے بارے میں اندازے غلط نکلے`

٭ دبئی ٹیسٹ: دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان 56 رنز سے جیت گیا

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دبئی میں اپنا 400 واں ٹیسٹ کھیلتے ہوئے 129 ویں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان 129 کامیابیوں کے مقابلے میں پاکستان کو 113 ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی اور 158 ٹیسٹ بغیر نتیجے کے ختم ہوئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کی اچھی کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں لیکن اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ملک میں بلکہ ملک سے باہر بھی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

پاکستان نے ہوم گراؤنڈز پر 151 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے 56 جیتے، 22 ہارے اور 73 کا نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔

پاکستان سے باہر کھیلے گئے 249 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان نے 73 ٹیسٹ جیتے، 91 میں اسے شکست ہوئی اور 85 ٹیسٹ ڈرا ہوئے ہیں۔

پاکستان نے انگلینڈ کی سرزمین پر 11 جبکہ نیوزی لینڈ میں دس ٹیسٹ میچ جیتے ہیں۔

اس کے برعکس آسٹریلیا میں جیتے گئے ٹیسٹ میچوں کی تعداد صرف چار ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں اسے دو ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل ہو سکی ہے۔

نیوزی لینڈ میں جیتے گئے ٹیسٹ میچز دس ہیں۔ ویسٹ انڈیز میں یہ تعداد پانچ ہے جب کہ سری لنکا میں پاکستان نے آٹھ، زمبابوے میں سات اور بنگلہ دیش میں چار ٹیسٹ میچز جیتے ہیں۔

پاکستان کا یہ ریکارڈ کئی اعتبار سے انڈیا کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ انڈیا نے گذشتہ دنوں اپنے 500 ٹیسٹ مکمل کیے ہیں۔ انڈیا نے اگرچہ پاکستان سے 102 ٹیسٹ زیادہ کھیل رکھے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی ٹیسٹ میچوں میں مجموعی کامیابیوں کی تعداد پاکستان سے صرف تین زیادہ یعنی 132 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا نے اپنے ہوم گراؤنڈز پر 251 ٹیسٹ میچوں میں سے 90 جیتے، 51 ہارے، ایک ٹائی ہوا اور 109 ٹیسٹ میچز ڈرا ہوئے ہیں لیکن اپنے ملک سے باہر اس کا ریکارڈ زیادہ متاثرکن نہیں ہے

انڈیا نے اپنے ملک میں 251 اور ملک سے باہر بھی اتنے ہی ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں۔ اس نے اپنے ہوم گراؤنڈز پر ان 251 ٹیسٹ میچوں میں 90 جیتے، 51 ہارے، ایک ٹائی ہوا اور 109 ٹیسٹ میچز ڈرا ہوئے ہیں لیکن اپنے ملک سے باہر اس کا ریکارڈ زیادہ متاثرکن نہیں ہے۔

انڈیا نے ملک سے باہر کھیلے گئے 251 ٹیسٹ میچوں میں صرف 42 ٹیسٹ جیتے ہیں۔ 106 میں اسے شکست ہوئی اور 103 ڈرا ہوئے ہیں۔

اگر پاکستان کے متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے 26 ٹیسٹ اور ان میں حاصل کردہ 14 فتوحات کو یہ سمجھ کر نکال دیں کہ یہ پاکستان کی ہوم سیریز کے میچز ہیں تب بھی پاکستان نے ملک سے باہر 59 ٹیسٹ جیتے ہیں جو انڈیا سے 17 زیادہ ہیں جب کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ انڈیا نے ملک سے باہر پاکستان سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیل رکھے ہیں۔

انڈیا نے آسٹریلوی سرزمین پر پاکستان سے آٹھ ٹیسٹ میچز زیادہ کھیلے ہیں لیکن ان 14 ٹیسٹ میچوں میں اس نے صرف پانچ ٹیسٹ جیتے ہیں جو پاکستان سے صرف ایک زیادہ ہے۔

انڈیا کا انگلینڈ میں ریکارڈ بہت خراب ہے جہاں اس نے 57 ٹیسٹ میچز میں سے صرف چھ میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جو پاکستان سے پانچ کم ہیں۔

انڈیا نے ویسٹ انڈیز میں پاکستان سے 26 ٹیسٹ زیادہ کھیل کر صرف سات ٹیسٹ جیت رکھے ہیں جو پاکستان سے صرف دو زیادہ ہیں۔

جنوبی افریقہ میں پاکستان اور انڈیا کا ریکارڈ برابر ہے یعنی دونوں کو وہاں دو دو ٹیسٹ جیتنے کا موقع مل سکا ہے تاہم انڈیا نے جنوبی افریقہ میں پاکستان کے 12 ٹیسٹ کے برعکس 17 ٹیسٹ کھیل رکھے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں