دوسرا ٹیسٹ روایتی سرخ گیند سے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلابی گیند کے بعد اب دوسرا ٹیسٹ روائتی سرخ گیند سے ہو گا

دبئی کے ڈے نائٹ ٹیسٹ میں گلابی گیند کے تجربے کے بعد ابوظہبی کے دوسرے ٹیسٹ میں کرکٹ ایک بار پھر اپنے روایتی طریقے یعنی دن کی روشنی میں سرخ گیند سے کھیلی جائے گی ۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹیسٹ جمعہ کے روز سے شیخ زید سٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے ۔

پاکستانی کپتان مصباح الحق کو یقین ہے کہ ڈے نائٹ ٹیسٹ کے برعکس ڈے میچ میں ان کی ٹیم کی کارکردگی زیادہ اچھی رہے گی کیونکہ تمام کھلاڑی دن کی روشنی میں سرخ گیند سے کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

پاکستان نے اگرچہ دبئی میں ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ 56 رنز سے جیت لیا تھا لیکن مصباح الحق کا کہنا تھا کہ گلابی گیند سے بولنگ کرتے ہوئے ان کے بولرز کو رات کے وقت پڑنے والی اوس کی وجہ سے مشکل کا سامنا رہا۔

ابوظہبی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو تجربہ کار یونس خان کی خدمات حاصل ہونگی جو بیماری کے بعد ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق آرام کرنے کے سبب پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔

یونس خان کے ٹیم میں آنے کے نتیجے میں بابراعظم کو جگہ چھوڑنی پڑے گی جنہیں یونس خان کی غیرموجودگی میں دبئی ٹیسٹ میں ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی اور انہوں نے پہلی اننگز میں نصف سنچری سکور کی تھی۔

یونس خان کو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز کی تکمیل کے لیے 544 رنز درکار ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں ایک فاسٹ بولر کی جگہ لیفٹ آرم اسپنر ذوالفقار بابر کی شمولیت یقینی ہے۔

کپتان مصباح الحق نے دبئی ٹیسٹ کے اختتام پر کہا تھا کہ انہیں ذوالفقار بابر کی کمی محسوس ہوئی تھی۔

پاکستانی ٹیم کا ملک سے باہر یہ 250 واں ٹیسٹ میچ ہے۔ اس نے اب تک کھیلے گئے 249 ٹیسٹ میچوں میں 73 جیتے ہیں 91 میں اسے شکست ہوئی ہے اور85 ڈرا ہوئے ہیں۔

ابوظہبی میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست ہے۔ اس نے اس میدان میں آٹھ ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں سے چار جیتے ہیں اور چار ڈرا ہوئےہیں۔

مصباح الحق نے اس میدان میں سب سے زیادہ 898 رنز اور سب سے زیادہ 5 سنچریاں بنائی ہیں۔

بولنگ میں ذوالفقار بابر صرف چار ٹیسٹ میچوں میں 20 وکٹیں حاصل کرکے قابل ذکر رہے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر کو ٹیسٹ میچوں میں اپنی پہلی جیت کا انتظار ہے۔ وہ اب تک دس ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کرچکے ہیں جن میں سے سات میں ویسٹ انڈیز کو شکست ہوچکی ہے اور تین میچز ڈرا ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں