یونس خان واپس آئے اور چھا گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یونس خان ایک ٹیسٹ کی غیرحاضری کے بعد ٹیم میں واپس آئے اور 33 ویں ٹیسٹ سنچری بناکر چھاگئے۔

ان کی شاندار بیٹنگ کے نتیجے میں پاکستان نے ابوظہبی میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے دن 304 رنز بنائے تھے اور اس کے 4 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

کپتان مصباح الحق اپنی 11 ویں سنچری سے صرف دس رنز کی دوری پر ہیں۔

دبئی کے ڈے نائٹ ٹیسٹ کے بعد ابوظہبی میں ٹیسٹ کرکٹ ایک بار پھر سرخ گیند کے ساتھ دن کی روشنی میں لوٹ آئی ہے۔

کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔

یہ مصباح الحق کا بحیثیت کپتان 48 واں ٹیسٹ ہے اس طرح انہوں نے پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کا عمران خان کا ریکارڈ برابر کردیا ہے۔

پاکستانی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا۔ پہلے ٹیسٹ کے ٹرپل سنچری میکر اظہر علی کو رنز اکاؤنٹ کھولنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور وہ پانچویں اوور میں گیبریئل کے ہاتھوں بولڈ ہوگئے۔

سمیع اسلم کی تیس گیندوں پر 6 رنز کی محتاط اننگز کا خاتمہ دیویندرا بشو نے بولڈ کر کے کیا۔

اسد شفیق اور یونس خان کی پراعتماد بیٹنگ نے ان دو نقصانات کی تلافی کرنے کی کوشش کی لیکن اسد شفیق نے پہلے ٹیسٹ کی طرح اس بار بھی سنچری مکمل کرنے کا موقع گنوادیا۔

وہ 68 رنز بناکر گیبریئل کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔

انھوں نے یونس خان کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 87 رنز کا اضافہ کیا اور ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے تین ہزار رنز بھی مکمل کرلیے۔

تین وکٹیں گرنے کے بعد ایک بڑے سکور تک پہنچنے کے لیے پاکستان کے پاس یونس خان اور مصباح الحق شکل میں آخری مستند جوڑی رہتی تھی جس نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں 175 رنز بناتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کردی۔

یہ ان دونوں کے درمیان 49 اننگز میں 15 ویں سنچری پارٹنرشپ ہے۔

یونس خان کی خوش قسمتی کہ 83 کے انفرادی سکور پر ان کا کیچ کریگ بریتھ ویٹ نے اپنی ہی گیند پر گرا دیا۔

انھوں نے اپنی سنچری 169 گیندوں پر آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کی جو ان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسری اور متحدہ عرب امارات میں 11 ویں سنچری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یونس خان دن کے آخری اوور میں127 رنز بناکر بریتھ ویٹ کی گیند پر چیس کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔

مصباح الحق نے مخصوص پرسکون انداز میں کھیلتے ہوئے اپنی نصف سنچری دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے مکمل کی۔

انھیں بھی ایک چانس ملا جب 54 رنز پر گیبریئل کی گیند پر وکٹ کیپر ہوپ نے کیچ ڈراپ کردیا۔

کھیل کے اختتام پر وہ چار چوکوں اور دوچھکوں کی مدد سے 90 رنز بناکر ناٹ آؤٹ تھے۔

پاکستانی ٹیم تین تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔

وہاب ریاض اور محمد عامر کو آرام دیتے ہوئے راحت علی اور ذوالفقار بابر کو بولنگ اٹیک میں لایا گیا ہے۔ یونس خان کے آنے پر بابر اعظم کو جگہ خالی کرنی پڑی ہے۔

محمد عامر نے بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد سے پانچ ٹیسٹ میچوں میں41.73 کی اوسط سے 15 وکٹیں حاصل کررکھی ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے وکٹ کیپر ڈورچ کی جگہ شائے ہوپ کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں