ابوظہبی ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 346 رنز کے خسارے میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے 106 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے

پاکستانی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ کے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز میں 452 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

دوسرے دن کے کھیل کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے 106 رنز بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔

ابوظہبی ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز مشکلات کا شکار

’یونس خان نائنٹیز میں نروس نہیں ہوتے‘

یونس خان واپس آئے اور چھا گئے

پاکستان نے گذشتہ روز کے سکور 304 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر اننگز شروع کی تو اسے صرف 38 رنز کے اضافے پر دو وکٹوں سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں کپتان مصباح الحق کی اہم وکٹ بھی شامل تھی جو گذشتہ روز کے سکور 90 میں چھ رنز کا اضافہ کرنے کے بعد گیبریئل کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق اپنے کریئر میں تیسری مرتبہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں جبکہ وہ چھ مرتبہ 80 سے 89 رنز کے درمیان آؤٹ ہو چکے ہیں

مصباح الحق نے امپائر کے فیصلے کے خلاف ریویو لیا تاہم امپائر کا فیصلہ برقرار رہا اور یوں پاکستانی کپتان اپنی 11 ویں سنچری مکمل نہ کرسکے۔

مصباح الحق اپنے کریئر میں تیسری مرتبہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں جبکہ وہ چھ مرتبہ 80 سے 89 رنز کے درمیان آؤٹ ہو چکے ہیں۔ اگر وہ سنچری مکمل کرلیتے تو یہ ان کی ابوظہبی میں چھٹی سنچری ہوتی اور وہ کسی ایک میدان پر سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بیٹسمین بن جاتے۔

مصباح الحق اس وقت ان چار پاکستانی بیٹسمینوں میں شامل ہیں جنھوں نے کسی ایک میدان میں پانچ ٹیسٹ سنچریاں بنا رکھی ہیں۔ دیگر بیٹسمینوں میں یونس خان (دبئی)، جاوید میانداد (اقبال سٹیڈیم فیصل آباد) اور محمد یوسف ( قذافی اسٹیڈیم لاہور ) شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Huw Evans picture agency
Image caption پاکستان کی جانب سے اظہر علی نے دو اور یاسر شاہ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا

یاسر شاہ کی تین چوکوں کی مدد سے 23 رنز کی عمدہ اننگز جیسن ہولڈر نے دیویندرا بشو کے کیچ کی مدد سے ختم کی تو پاکستانی ٹیم پہلے دن کی اچھی پوزیشن کو ضائع کرنے کے خطرے سے دوچار تھی لیکن اس مرحلے پر سرفراز احمد کی تیز رفتار بیٹنگ نے اس گرفت کو کمزور نہیں پڑنے دیا۔

سرفراز احمد نے ٹیسٹ میچوں میں اپنی آٹھویں نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے 56 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں چھ چوکے شامل تھے۔

وہ محمد نواز کے ساتھ ساتویں وکٹ کی شراکت میں70 رنز بناکر گیبریئل کی گیند پر بولڈ ہوئے تو پاکستان کا سکور 412 رنز تک پہنچ چکا تھا۔

سرفراز احمد نے 14 اننگز کے بعد پہلی نصف سنچری سکور کی ہے۔

محمد نواز 71 گیندوں پر 25 رنز بناکر ہولڈر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔

سہیل خان کے پانچ چوکوں کی مدد سے بنائے گئے قیمتی 26 رنز ٹیم کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔

پاکستانی ٹیم اپنے گذشتہ روز کے سکور میں 148 رنز کا اضافہ کرسکی۔

شینن گیبریئل نے اپنے کریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 96 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر اپنے کریئر میں محض دوسری مرتبہ اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کا آغاز لیون جانسن اور ڈیرن براوو نے کیا لیکن 27 کے مجموعی اسکور پر اس کی پہلی وکٹ گرگئی جب راحت علی نے جانسن کو ایل بی ڈبلیو کردیا وہ 12 رنز بنا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دبئی ٹیسٹ کے سنچری میکر ڈیرن براوو کو یاسر شاہ نے 43 کے انفرادی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو اہم کامیابی دلا دی۔ امپائر مائیکل گف نے براوو کو ناٹ آؤٹ دیا تھا لیکن مصباح الحق نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جو پاکستانی ٹیم کے حق میں گیا

دبئی ٹیسٹ کے سنچری میکر ڈیرن براوو کو یاسر شاہ نے 43 کے انفرادی اسکور پر ایل بی ڈبلیو کر کے پاکستان کو اہم کامیابی دلا دی۔ امپائر مائیکل گف نے براوو کو ناٹ آؤٹ دیا تھا لیکن مصباح الحق نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا جو پاکستانی ٹیم کے حق میں گیا۔

یاسر شاہ نے اگلی ہی گیند پر سیمیولز کو بھی ایل بی ڈبلیو کردیا لیکن اس مرتبہ ریویو نے امپائر کا فیصلہ غلط ثابت کردیا۔

پاکستانی ٹیم نے کریگ بریتھ ویٹ کے خلاف راحت علی کی اپیل پر بھی ریویو لیا جو ضائع ہوگیا۔

کھیل کے آخری لمحات میں پاکستانی ٹیم کو مارلن سیمیولز اور بریتھ ویٹ کی وکٹیں مل گئیں۔

سیمیولز 30 رنز بناکر راحت علی کی گیند پر سلپ میں سمیع اسلم کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔اس وقت ویسٹ انڈیز کا سکور 106 رنز تھا۔

اسی سکور پر ویسٹ انڈیز نے کریگ بریتھ ویٹ 21 رنز بناکر مصباح الحق کی تھرو پر رن آؤٹ ہوگئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں