اب تک بڑی اننگز نہ کھیلنے پر مایوسی ہوتی ہے: سمیع اسلم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سمیع اسلم کا کہنا ہے کہ بیٹسمین اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور وہ بھی کوشش کریں گے کہ بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر سمیع اسلم اپنی کارکردگی سے بڑی حد تک مطمئن تو ہیں لیکن اس بات کا بھی برملا اعتراف کرتے ہیں کہ اب تک وہ اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 20 سالہ سمیع اسلم سات ٹیسٹ میچوں کی 12 اننگز میں پانچ نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں جن میں سے تین موجودہ سیریز میں بنی ہیں۔ تاہم ان پانچ میں سے چار اننگز ایسی ہیں جنھیں وہ تین ہندسوں میں تبدیل کرسکتے تھے۔

رواں سال انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ 82 اور 70 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔

٭ چار نصف سنچریاں لیکن پاکستان بڑے سکور میں ناکام

ویسٹ انڈیز کے خلاف موجودہ سیریز کے دبئی ٹیسٹ میں وہ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے اور صرف دس رنز کی کمی سے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل نہ کرسکے۔

شارجہ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انھوں نے 74 کے سکور پر ریورس سوئپ کھیلنے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوائی۔

سمیع اسلم کہتے ہیں کہ ایک اوپنر کو جب اچھا آغاز مل جاتا ہے تو اسے اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنا چاہیے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا نصف سنچری کو سنچری میں تبدیل کرنے کا ریکارڈ اچھا ہے۔ لہذا انھیں یقیناً مایوسی ہے کہ وہ ابھی تک اپنے سکور کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

سمیع اسلم یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ نصف سنچری بنانے کے بعد یا سنچری کے قریب آنے پر وہ نروس ہوجاتے ہیں یا ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سمیع اسلم سات ٹیسٹ میچوں کی 12 اننگز میں پانچ نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ اگر کھیل پر توجہ نہ ہوتی تو تقریباً ہر میچ میں وہ اچھا سکور کیسے کرسکتے تھے۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے غلط شاٹ کھیلنا۔

سمیع اسلم خود کو اس لحاظ سے خوش قسمت تصور کرتے ہیں کہ انھیں دو انتہائی سینیئر اور تجربہ کار بیٹسمینوں یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔

نوجوان اوپنر کا کہنا ہے کہ بیٹسمین اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور وہ بھی کوشش کریں گے کہ اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوں۔

سمیع اسلم کے خیال میں شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن آؤٹ فیلڈ سخت تھی لہذا آپ کو رنز کرنے کے لیے شاٹس کھیلنے پڑتے ہیں اور اسی میں غلطی بھی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی آؤٹ فیلڈ پر سکور کرنے کے لیے آپ کو چانس لینا پڑتا ہے۔‘

شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن گرنے والی پاکستانی وکٹوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پہلے گھنٹے کے کھیل میں فاسٹ بولرز کو وکٹ سے یقیناً مدد ملی لیکن بیٹسمینوں نے غلط شاٹس بھی کھیلے ہیں جن پر وہ آؤٹ ہوئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں