کیا صرف ٹرافی ہی کافی ہے؟

پاکستان کرکٹ ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں تو صرف 123 رنز پر آل آؤٹ ہونے کا شرف بھی حاصل کیا

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اخلاقی اقدار، روپے کی قیمت اور پاکستانی بیٹنگ کا معیار ہمیشہ ہی زوال پذیر رہتے ہیں لیکن کبھی کبھی پاکستانی بیٹنگ ایسے معجزات دکھاتی ہے کہ انسانی عقل اس کا احاطہ کرنے سے یکسر معذور ہو جاتی ہے۔

حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

ایسے موقعوں پر کامن سینس گڑبڑا جاتی ہے کہ کیا یہ وہی بیٹسمین ہیں جو گذشتہ چھ سال سے اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ ٹیم یو اے ای میں آل آؤٹ ہوئی ہو۔

ٹیسٹ ہارنے پر مصباح الحق ’سخت مایوس‘

جیتی ہوئی سیریز کا شکست پر اختتام

ویسٹ انڈیز کی ٹیم ڈگمگا کر سنبھل گئی، جیت سے 39 رنز دور

بزرگوں کا ساتھ چھوٹتے ہی کشتی ڈولنے نہ لگے!

عموما پانچ چھ وکٹوں کے نقصان پہ یہ اتنا سکور کر لیتے ہیں کہ مصباح کو اننگز ڈیکلیئر کرنا پڑتی ہے لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف اس سیریز کی چھ اننگز میں یہی بیٹنگ لائن تین بار 300 سے کم رنز پر آل آؤٹ ہوئی ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں تو صرف 123 رنز پر آل آؤٹ ہونے کا شرف بھی حاصل کیا۔

مصباح کو اس بات پر کوئی یوم تفکر منانا چاہیے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا کہ یو اے ای میں ناقابل شکست ٹیم آٹھویں نمبر کی ٹیم سے ٹیسٹ میچ ہار گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر مصباح اور یونس ٹیم کو دستیاب نہ ہوں اور واحد میچ وننگ بولر یاسر بھی ایسی فارم میں نہ ہوں تو کیا یہ ٹیم ویسٹ انڈیز سے جیت سکتی ہے؟

پچھلے ٹیسٹ ایک مفروضے پر بات ہوئی تھی کہ اگر مصباح اور یونس ٹیم کو دستیاب نہ ہوں اور واحد میچ وننگ بولر یاسر بھی فارم میں نہ ہوں تو کیا یہ ٹیم ویسٹ انڈیز سے جیت سکتی ہے؟

شارجہ ٹیسٹ نے ہمارے اس مفروضے کا خاصا تسلی بخش جواب دیا ہے۔

کیا ہمیں مستقل مزاجی اور تسلسل جیسی اجناس سے کوئی فطری عداوت ہے؟ کیا ہم مسلسل جیتنے سے بوریت کا شکار ہو جاتے ہیں؟ پانچ روزہ میچ میں مسلسل چار دن برے کھیل کا مظاہرہ کیا گیا۔ سستی، کاہلی اور مست مزاجی گویا شارجہ کی پچ پہ بال کھولے سو رہی تھی۔

بریتھ ویٹ کی تکنیک میں مسائل ہیں مگر پاکستانی تھنک ٹینک نے اتنی مار کھانے کے بعد بھی اس پہ کوئی ورک آوٹ نہیں کیا۔ ہولڈر نے شارٹ پچ گیندوں کا اچھا استعمال کیا مگر ایک مردہ وکٹ پہ سست رفتار شارٹ پچ گیند اتنی ہی مہلک ہو سکتی ہے جتنی پانی میں بیٹھی بطخ۔ بھلا ہو سمیع اسلم اور اسد شفیق کا کہ اس بطخ کو اپنے اعصاب پہ بھرپور طریقے سے سوار کیا۔

ہمارے لئے صرف ایک چیلنج تھا کہ اگر ہمارے دو بڑے بیٹسمین اور ایک بڑا بولر پرفارم نہیں کر پاتا تو کیا باقی ٹیم میں اتنا دم خم ہے کہ وہ ان کے پرفارم نہ کرنے کے باوجود کسی نہ کسی طرح جیت جائے؟

پوری سیریز میں پاکستان نے اپنے معیار سے کم اور ویسٹ انڈیز نے اپنی استطاعت سے زیادہ پرفارمنس دی ہے۔ پاکستان نے ٹرافی تو جیتی ہے مگر کچھ سیکھا نہیں ہے۔ 123 پہ آل آوٹ ہونا ایک سنگین وارننگ تھی مگر حسب معمول یہ وارننگ بھی رائیگاں ہی رہی۔

آخری ٹیسٹ کی آخری اننگ تک کہیں نظر نہیں آیا کہ ہم نے اس وارننگ سے کچھ بھی سیکھا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویسٹ انڈیز کے پاس شاید ایک بھی میچ وننگ کھلاڑی نہیں تھا لیکن سیریز کے دوران کچھ لڑکوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ تن تنہا ٹیسٹ میچ جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

جیت کے نقصانات یہ ہوتے ہیں کہ سبھی خامیاں چھپ جاتی ہیں اور ہار کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی خامی چھپ نہیں پاتی۔ خواہ وہ مصباح کا سلپ میں کھڑے ہونے کا غلط فیصلہ ہو یا سرفراز اور اظہر کا اچھی شراکت قائم کرنے کے بعد یوں آسانی سے یکے بعد دیگرے آؤٹ ہو جانا۔ بیٹنگ ہو، بولنگ ہو یا فیلڈنگ، تینوں میں مسائل دکھائی دیے۔

بیٹنگ کے مسائل تو تب تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک بیٹنگ آرڈر سیٹ نہیں ہو جاتا۔

اظہر علی ٹیسٹ اوپنر نہیں ہیں۔ پاکستان کو سمیع اسلم کے ساتھ ایک ریگولر اوپنر لازمی چاہیے۔ اسد شفیق ون ڈاؤن پوزیشن پر اپنے پوٹینشل کا ٹھیک اظہار نہیں کر پائے۔

اگرچہ محمد یوسف ایک عرصے سے کہہ رہے تھے کہ اسد شفیق کو ون ڈاؤن پوزیشن پر کھلایا جائے مگر ون ڈاؤن پر پروموشن کے بعد ابھی تک اسد صرف ایک سینچری کر پائے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس پوزیشن پر کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں دکھائی۔

سرفراز ہمیشہ اچھا آغاز کرتے ہیں لیکن 50 کے اوپر نیچے پہنچتے ہی جلد بازی میں آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ انھوں نے خود کو اس ٹیم کے لیے ناگزیر ثابت کر لیا ہو؟

اس ٹیسٹ کو دیکھا جائے تو پاکستان کی بولنگ میں بھی ڈسپلن کی کمی نظر آئی جو تھکاوٹ کا لازمی نتیجہ ہوتی ہے۔ آپ کے بیٹسمین کریز پر جتنا کم ٹھہرتے ہیں اتنا ہی آپ کے بولروں کو زیادہ بھاگنا پڑتا ہے۔ فیلڈنگ تو خیر کبھی بھی مثالی نہیں رہی لیکن جب مصباح اور یونس جیسے فیلڈر بھی سلپ میں آسان کیچ ڈراپ کرنے لگیں تو کیا کسی سے گلہ کرے کوئی۔

یہ ایک آسان سیریز تھی اور پاکستان سے توقع یہی تھی کہ کلین سویپ کرے گا مگر یہ تاریخی موقع بھی ہماری بیٹنگ نے اپنی شہرت کی لاج رکھتے ہوئے گنوا دیا۔

امید یہی ہے کہ دو ہفتے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ہم اپنی ان غلطیوں سے کچھ سیکھ کر میدان میں اتریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں