انڈیا سیریز کے بعد کک کپتانی سے سبکدوش ہو سکتے ہیں؟

کک تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انگلینڈ کے کپتان ایلسٹر کک ٹیسٹ میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں میں ابھی 11 ویں نمبر پر ہیں

انگلینڈ کی ٹیم انڈیا کے دورے پر آئی ہوئی اور نو نومبر سے پہلا ٹیسٹ شروع ہونے والا ہے لیکن سیریز سے قبل ہی کپتان ایلسٹر کک نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کپتان کی حیثیت سے ان کی آخری سیریز ہو سکتی ہے۔

انگلینڈ کے 31 سالہ کپتان بدھ سے شروع ہونے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں مائیکل آرتھرٹن کا 54 ٹیسٹ کی کپتانی کا ریکارڈ توڑ دیں گے۔

دا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے ایک کرکٹ میگزن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا: سچ یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں اور کتنے دنوں رہ سکتا ہوں۔ یہ دو مہینے بھی ہو سکتے ہیں اور ایک سال بھی۔

کک سنہ 2012 میں انگلینڈ کے کپتان مقرر ہوئے تھے اور ان کی سربراہی میں ٹیم نے 24 میچوں میں کامیابی حاصل کی جس میں دو بار انگلینڈ میں ایشز سیریز کے علاوہ سنہ 2012 میں انڈیا کے دورے پر سیریز کی جیت شامل ہے۔

اس کے علاوہ کک انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ 10688 رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے 135 ٹیسٹ میں انگلینڈ کی نمائندگی کی ہے۔

انھوں نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ کپتانی کے بعد وہ ایک کھلاڑی کے طور پر انگلینڈ ٹیم میں شامل رہنا چاہیں گے۔

انھوں نے کہا: مجھے امید ہے کہ ایک دن میں صرف ایک بیٹسمین کی حیثیت سے ٹیسٹ میچ کھیلوں گا اور اس کے بارے میں کوئی شک نہیں۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو میں پہلی سلپ میں کھڑے ہوکر جو کوئی بھی کپتان ہو اسے صلاح دینے میں خوشی محسوس کروں گا۔ میں ایسا نہیں چاہتا کہ میں حتمی فیصلہ کروں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption کک انڈیا کے دورے پر مائیکل آرتھرٹن کا سب سے زیادہ میچ میں انگلینڈ کی کپتانی کا ریکارڈ توڑنے والے ہیں

مجھے یہ سوچ کر اچھا لگتا ہے کہ میں نے ایک عرصے تک ایسا کیا ہے اور میں نے اچھے فیصلے لیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: کچھ مشکل حالات بھی آئے ہیں اور آپ اس سے اس لیے بھی زیادہ محظوظ ہوتے ہیں کہ انگلینڈ کے کپتان ہونے کی حیثیت سے آپ اس سے گزرتے ہیں۔

انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ووگن کا خیال ہے کہ کک انڈیا کی سیریز یا پھر آسٹریلیا میں ہونے والے ایشز سیریز کے بعد ریٹائر ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو سے بات کرتے ہوئے کہا: یہ چھ سات ہفتے کک کے لیے بہت نازک نہیں کیونکہ وہ ریکارڈ توڑ رہے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ان میں ابھی چار پانچ سال تک بیٹنگ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

اب یہ ان پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کپتانی سے سبکدوش ہو کر ایک کھلاڑی کے طور پر ٹیم میں شامل رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

پانچ ٹیسٹ میچ کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ نو نومبر سے راجکوٹ میں کھیلا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں