کرائسٹ چرچ میں شکست کے سائے منڈلانے لگے

یونس خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیئر بلےباز یونس خان بھی وکٹ پر موجود باؤنس کے ہاتھوں پریشانی کا شکار نظر آئے

پاکستانی بیٹسمین دو دن میں دوسری مرتبہ انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر کے اپنی ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میں شکست کے قریب لے آئے ہیں۔

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے صرف 129 رنز بنائے تھے اور اس کی سات وکٹیں گر چکی تھیں۔

اس طرح پاکستان کی مجموعی برتری صرف 62 رنز کی ہے اور اس کی صرف تین وکٹیں باقی ہیں۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں بیٹسمینوں کے لیے بھاری دن

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کا دوسرا دن

پاکستان کی آخری امید اسد شفیق سے وابستہ ہیں جو چھ رنز پر کریز پر ہیں ان کے ساتھ سہیل خان22 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

پاکستانی بولروں نے تیسرے دن نیوزی لینڈ کو اپنی عمدہ بولنگ سے 200 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم جس نے دوسرے دن تین وکٹوں پر104 رنز بنائے تھے سکور میں صرف 96 رنز کا اضافہ کر سکی۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے جیت روال جنھوں نے گذشتہ روز اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی، آج سکور میں کسی رن کا اضافہ کیے بغیر آؤٹ ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹرینٹ بولٹ نے عمدہ فاسٹ بولنگ کا مظاہرہ کیا

لوئر آرڈر بیٹسمینوں کی قطرہ قطرہ حصہ داری نے سکور کو پاکستان سے آگے پہنچادیا۔

راحت علی جنھیں اس ٹیسٹ میں وہاب ریاض پر فوقیت دی گئی، چار وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب بولر رہے۔ سہیل خان اور محمد عامر تین تین وکٹوں کی مساوی تقسیم پر دوسرے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔

رنز کے خسارے کے بعد پاکستانی ٹیم کو اپنے بیٹسمینوں سے جس ذمہ داری کی توقع دوسری اننگز میں تھی وہ پوری نہ ہوسکی اور پہلی اننگز کی طرح اس بار بھی بیٹسمینوں نے غلط شاٹس کھیل کر اپنی وکٹیں گنوائیں۔

پہلا دھچکہ کولن گرانڈوم نے ہی پہنچایا جنھوں نے سمیع اسلم کو وکٹ کیپر واٹلنگ کی مدد سے پویلین کی راہ دکھائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی جانب سے راحت علی نے چار، سہیل خان اور محمد عامر نے تین، تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

بابراعظم اور یونس خان کی اوپر تلے گرنے والی وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کے لیے مصیبت کھڑی کر دی۔ یہ دونوں بھی وکٹ کیپر واٹلنگ کو کیچ دے گئے لیکن اس بار بولر ویگنر تھے۔

ویگنر نے بابراعظم کو آؤٹ کرکے 26ویں ٹیسٹ میں اپنی سو وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔

کپتان مصباح الحق اور اظہرعلی کی وکٹوں نے نیوزی لینڈ کی خوشی دوبالا کر دی اور اسے جیت سامنے نظر آنے لگ گئی۔

سرفراز احمد جو مشکل صورت حال میں وکٹ پر کھڑے ہو کر فائٹ کرنے کے لیے مشہور ہیں دونوں اننگز میں ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

اسد شفیق جو اپنی پرانی چھٹی پوزیشن پر واپس آئے ہیں، کھیل کے اختتام پر سہیل خان کے ساتھ شکست کو پرے دھکیلنے کی آس لیے کریز پر موجود ہیں لیکن اس آس کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انھیں اپنے کریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنی ہو گی۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے پہلی اننگز کی خراب کارکردگی کے بعد دوسری اننگز میں خود پر جو دباؤ قائم کر لیا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے انتہائی سست روی سے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے 50 اووروں میں صرف 80 رنز اسکور کیے جو 15 سال میں اس کا کسی اننگز کے پہلے 50 اووروں میں بنایا گیا سب سے کم سکور ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں