کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے شکست

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان کین ولیم سن نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئِے 61 رنز بنائے

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف کرائسٹ چرچ میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ 8 وکٹوں سے جیت لیا۔

کین ولیم سن اور جیت راول کی 85 رنز کی شراکت نے نیوزی لینڈ کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی اہم برتری دلادی ۔

٭ تفصیلی سکور کارڈ کے لیے کلک کریں

یہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی اپنی سرزمین پر پاکستان کے خلاف سات سال میں پہلی کامیابی ہے۔

آخری بار اس نے نومبر 2009 میں ڈنیڈن میں کھیلا گیا ٹیسٹ 32 رنز سے جیتا تھا۔

کرائسٹ چرچ میں پاکستانی بولرز 105 رنز کے ہدف کا دفاع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے لیکن اس کا ذمہ دار انھیں نہیں بلکہ بیٹسمینوں کو قرار دیا جائے گا جنہوں نے عملاً صرف تین دن کے کھیل میں دونوں اننگز میں انتہائی مایوس کن بیٹنگ سے پاکستانی ٹیم کی شکست کا سکرپٹ لکھ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹم ساؤدی نے تین وکٹیں حاصل کیں

میچ کے چوتھے دن پاکستانی ٹیم نے 129 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر دوسری اننگز شروع کی تو ایک فائیٹنگ ہدف مقرر کرنے کے لیے اسے اسد شفیق اور ٹیل اینڈرز سے کسی معجزاتی کارکردگی کی توقع تھی جو پوری نہ ہوسکی۔

اگر پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کو 105 رنز کا ہدف دے پائی تو یہ بھی سہیل خان کی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے ممکن ہوسکا جنہوں نے 39 گیندوں پر ایک چھکے اور پانچ چوکے کی مدد سے 40 رنز بنا ڈالے۔

انھوں نے مستند بیٹسمین اسد شفیق کے ساتھ آٹھویں وکٹ کی شراکت میں 53 رنز کا اضافہ کیا۔

اسد شفیق آٹھ کے اسکور پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کی اپیل پر ناٹ آؤٹ دیے گئے ۔نیوزی لینڈ کی بدقسمتی کہ اس کے دونوں ریویوز تیسرے دن استعمال ہوچکے تھے۔

سہیل خان کے آؤٹ ہونے کے بعد اسد شفیق بولنگ پر حاوی نہ ہوسکے اور صرف 17 رنز بناکر جیت راول کے انتہائی شاندار کیچ پر پویلین کی راہ دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔

ٹم ساؤدی نے راحت علی کو لیتھم کے ہاتھوں کیچ کراکر اننگز میں اپنی تیسری وکٹ حاصل کی اور پاکستانی اننگز کا 171 پر خاتمہ کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پہلے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز پاکستان کی وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں

ٹرینٹ بولٹ اور نیل ویگنر بھی اس اننگز میں تین تین وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

نیوزی لینڈ نے 19 کے اسکور پر لیتھم کی وکٹ محمد عامر کی گیند پر گنوائی تو پاکستانی ٹیم مزید کامیابیوں کے لیے پرتول رہی تھی لیکن پہلی اننگز میں ناکام ہونے والے کین ولیم سن اس بار پاکستانی بولرز کو کوئی موقع دینے کے لیے تیار نہ تھے ۔

انھوں نے جیت راول کے ساتھ 85 رنز کی شراکت قائم کر کے مصباح الحق کی مایوسی میں اضافہ کردیا۔

پاکستانی ٹیم کو دوسری کامیابی اس وقت مل سکی جب نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے صرف ایک رن درکار تھا۔

کین ولیم سن 61رنز بناکر اظہرعلی کی وکٹ بنے جس کے بعد جیت راول اور ہنری نکلس نیوزی لینڈ کو جیت سے ہمکنار کرگئے۔ اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے جیت راول جنہوں نے پہلی اننگز میں نصف سنچری بنائی تھی اس بار 36رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں