اگر مصباح نے مصباح کو نہ ہرایا ہوتا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہم نیوزی لینڈ سے ہارے یا ہمیں کرائسٹ چرچ کی بے رحم وکٹ نے ہرایا؟ ہمیں موسم نے مات دی کہ ہم وقت سے ٹکرا گئے؟

کیوی کرکٹ میں یہ میچ کئی دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا کہ ایک نو آموز کیوی ٹیم نے دنیا کی بہترین ٹیم کو نہایت مہارت سے زیر کیا۔ پاکستان اس میچ کو جلد از جلد بھلانے کی کوشش کرے گا۔

کیویز بہت اچھا کھیلے۔ ہم کافی برا کھیلے مگر اتنا بھی نہیں۔ ہم گرتے رہے، اٹھتے رہے، سنبھلتے رہے، بکھرتے رہے۔

پہلے دن ہم جتنا برا کھیلے، دوسری صبح اتنا ہی اچھا کھیلے۔ دوسری اننگز میں پاکستانی بیٹنگ کے وہ چار گھنٹے ٹیسٹ کرکٹ کی معراج تھے جب اظہر علی ایک خوفناک وکٹ اور خطرناک اٹیک کے آگے ڈٹ گئے۔ چار طویل ترین گھنٹوں میں پھینکی گئی 172 گیندوں میں سے ہر ایک نے اظہر کے اعصاب، اس کی فٹنس، اس کی تکنیک، ہر چیز کا امتحان لیا مگر اس نے اپنی وکٹ نہیں دی۔

پلان یہ تھا کہ 67 رنز کے خسارے کو بھول کر ابھی صرف وکٹ پہ وقت گزارا جائے۔ وکٹیں بچائی جائیں۔ کیوی بولرز اور فیلڈرز کو تھکایا جائے۔ دھوپ کا انتظار کیا جائے۔ پچ کے بہتر ہونے تک رکا جائے۔ پھر وہ وقت آئے گا کہ جب تھکے ماندے کیویز بری گیندیں پھینکنے لگیں گے اور وکٹ کسی بھی سازش کا حصہ بننے سے انکار کر دے گی۔ تب رنز کا حصول دشوار نہیں ہو گا۔

ایسا کچھ بھی نہ ہوا لیکن اظہر نے اپنے کرئیر کی بہترین اننگز کھیل ڈالی۔

اس نے ساوتھی، بولٹ اور گرانڈہوم کے سبھی سوال نظر انداز کیے، ویگنر کے خطرناک باونسرز جھیلے، ولیمسن کی چالوں کو مات دی۔

سبھی اس اننگز کو سٹرائیک ریٹ کے پیمانے میں تولتے رہے مگر اظہر کو یہ پتا تھا کہ اس کا کام رنز کرنا نہیں ہے۔ اسے بس وکٹ پہ رکنا تھا جب تک بادل چھٹ نہ جائیں، کیوی بولرز تھک نہ جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اظہرکی ٹیکنیک میں مسئلے ہیں۔ ایسا بیٹسمین اتنی مشکل کنڈیشنز میں اتنی جلدی ایڈجسٹ نہیں ہو سکتا۔ پہلی اننگز میں اظہر کی وکٹ گرنے کی دیر تھی کہ پاکستان کا مڈل آرڈر ایکسپوز ہو گیا تھا۔ اب غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔ پاکستان کی اس میچ میں سمت اس کی بیٹنگ نے طے کرنا تھی اور پاکستانی بیٹنگ کی سمت اظہر کو طے کرنا تھی۔

جب اظہر نے کسی بھی طرح آوٹ ہونے سے انکار کر دیا تو ولیمسن نے پلان مصباح استعمال کیا۔ اظہر کے تمام سکورنگ شاٹس بلاک کر دیے گئے۔ پورے پورے سپیل میڈن پھینکے گئے۔ رنز کا قحط پیدا کیا گیا۔ اور پھر سبھی کیوی بولرز نے اس ڈرائیو کے لیے جال بچھائے جس کے لالچ میں اظہر نے پچھلی اننگ میں اپنی وکٹ گنوائی تھی۔

ایک سے بڑھ کر ایک حملہ کیا گیا۔ موسم نے دغا دی۔ سورج نے بھی آنکھ مچولی کھیلی۔ دوسرے اینڈ پہ بھی کوئی بیٹسمین نہ ٹکا۔ نیوزی لینڈ نے بھی کوئی بری گیند نہیں کی۔ کچھ بھی اظہر کے حق میں نہیں گیا مگر اظہر نے ہمت نہیں ہاری۔

یقینا یہ ساری ہمت بار آور ہو جاتی اگر مصباح نے وہ بے مغز شاٹ نہ کھیلی ہوتی۔ اگر وہ کیچ سیدھا بولٹ کے ہاتھوں میں نہ پہنچایا ہوتا۔ اظہر کاتب تک دوسرے اینڈ پہ تین پارٹنر گنوا چکے تھےمگر مصباح سے انہیں یہ توقع نہیں تھی۔

تب تو مشکل وقت گزر چکا تھا، اظہر نے مشکل ترین کام کر ڈالا تھا۔ اب تو کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے سازگار ہو رہی تھیں۔ اب تو رنز حاصل کرنا آسان ہوچلا تھا، مگر کوئی رکے تو۔

اور جب کوئی نہیں رکتا تو امید صرف مصباح سے ہوتی ہے۔ اظہر کی ساری محنت پلان مصباح کا ہی تو حصہ تھی۔ مگر جب مصباح خود سے ہی ہار جائے تو کیا کیا جائے۔ وہ جیت سکتے تھے اگر مصباح نے مصباح کو نہ ہرایا ہوتا۔

پھر اظہر علی بھی ہار گئے۔ اور پاکستان بھی نیوزی لینڈ سے ہار گیا۔

پاکستان کے لیے یہ میچ تبھی ختم ہو گیا تھا جب اظہر علی آوٹ ہوئے۔

پھر اس کے بعد کون رکا، کون اڑا، کس نے کتنے چوکے مارے، کون جیتا، کون ہارا،

سب بے معنی تھا۔

اسی بارے میں