بعض معاملوں میں کوہلی سچن سے بھی بہتر

کوہلی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پہلے فیلڈ میں بےجا جارحیت کے لیے ان پر تنقید ہوتی تھی لیکن اب ان کے رویے میں کافی بہتری محسوس کی جا سکتی ہے

انڈین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کی بیٹنگ میں اب پہلے سے زیادہ پختگی دکھائی دیتی ہے اور ان میں دنیا کے بہتریں بلے بازوں کی فہرست میں شامل ہونے کی صلاحیت بھی ہے۔

پہلے فیلڈ پر غیر ضروری جارحیت کے لیے ان پر تنقید ہوتی تھی لیکن اب ان کے رویے میں کافی بہتری محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کی تصدیق کوہلی کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتی ہے۔

50 رن بنانے کے بعد یا سنچری سکور کرنے پر اب وہ آپ کو اچھلتے نظر نہیں آتے۔ چلاتے بھی کم ہیں۔ اب وہ اپنی سنچری کے قریب پہنچتے ہیں تو سنجیدگي کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔

مخالف ٹیم انھیں جلدی ہی آؤٹ کر دے تو ٹھیک لیکن اگر وہ 50 کا ہندسہ پار کر لیتے ہیں تو پھر سنچری مکمل کرنے کا امکان کافی بڑھ جاتا ہے۔

50 رنز کو سنچری میں تبدیل کرنے کے معاملے میں کوہلی دنیا کے پانچویں بہترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انھوں نے اب تک 50 ٹیسٹ کی 86 اننگز میں 14 سنچریاں اور 13 نصف سنچریاں سکور کی ہیں۔ اس فہرست میں سچن تندولکر ان سے کافی پیچھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وراٹ کوہلی اپنے ساتھی چیتیشور پجارا کے ساتھ

وراٹ کوہلی کی نصف سنچری کو سنچری میں تبدیل کرنے کی شرح (کنورژن ریٹ) 51.85 ہے۔

اس معاملے میں ان سے آگے آسٹریلیا کے ڈان بریڈمین (کنورژن ریٹ 69.05)، ویسٹ انڈیز کے جارج ہیڈلی (کنورژن ریٹ 66.67)، آسٹریلیا کے بل پونسفورڈ (کنورژن ریٹ 69.05) اور انگلینڈ کے لیس ایمس (کنورژن ریٹ 53 .33) ہیں۔

ان میں سے بل پونسفورڈ نے سات سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں بنائی ہیں جبکہ لیس ایمس کے بلے سے آٹھ سنچریاں اور سات نصف سنچریاں بنی ہیں۔ اس طرح اس مقابلے میں کوہلی کا اصلی مقابلہ ڈان بریڈمین اور جارج ہیڈلی سے ہے۔

یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ 50 رن سکور کرنے کے بعد 100 تک لے جانے کی بہترین شرح والے سب سے اچھے 10 بلے بازوں میں وراٹ کوہلی ہی ایسے بلے باز ہیں جو ابھی کھیل رہے ہیں۔ باقی تمام بڑے کھلاڑي ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انڈين ٹیسٹ ٹیم کے کپتان کے پاس اس شرح کو بہتر بنانے کے بھی بہت مواقع ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کوہلی نے نو سنچریاں بیرون ملک میں بنائی ہیں جبکہ پانچ بھارت میں سکور کی ہیں۔

موجودہ کھلاڑیوں میں کوہلی کے سب سے قریب ان کے اپنے ساتھی چتیشور پجارا ہیں، جنھوں نے 40 ٹیسٹ میچوں کی 68 اننگز میں 10 سنچریاں اور 10 نصف سکور کی ہیں۔

 50 کے سکور کو 100 میں تبدیل کرنے کی پجارا کی شرح 50 ہے۔

اس زمرے میں بھارتی کرکٹ کو اپنے بلے سے بلندی پر پہنچانے والے سچن تندولکر وراٹ کوہلی سے کہیں پیچھے48 ویں نمبر پر ہیں۔ 200 ٹیسٹ میچوں کی 329 اننگز میں سچن نے 51 سنچریاں اور 68 نصف سنچریاں سکور کیں۔ ان کا کنورژن ریٹ 42.86 ہوا۔

اگر کوہلی کی پسندیدہ ٹیم کی بات کی جائے تو وہ آسٹریلیا ہے۔ کوہلی نے اب تک کل 14 سنچریاں سکور کی ہیں جس میں سے چھ آ‎سٹریلیا کے خلاف ہیں۔ انھیں بیرون ملک سرزمین پر خود کو ثابت کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔

انھوں نے نو سنچریاں بیرون ملک میں بنائی ہیں جبکہ پانچ بھارت میں سکور کی ہیں۔

کوہلی کا یہ شاید سب سے بہترین دور چل رہا ہے۔ رواں برس 2016 میں انھوں نے 72.66 کی اوسط سے 872 رن بنائے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں