مصباح الحق کے بغیر سیریز برابر کرنے کا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مصباح الحق کی بحیثیت کپتان فتوحات کا سلسلہ 2011 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہیملٹن ٹیسٹ میں دس وکٹوں کی جیت سے شروع ہوا تھا جس نے انھیں پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب کپتان بنا دیا لیکن اب وہ اسی ہیملٹن میں جمعہ سے شروع ہونے والے موجودہ سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے سے قاصر ہیں ۔

مصباح الحق کو اپنے ُسسر کے انتقال کے سبب پہلے ٹیسٹ کے آخری دن وطن واپسی پر مجبور ہونا پڑا اور جب وہ وطن پہنچے تو ان پر سلو اوور ریٹ کی وجہ سے ایک میچ کی معطلی کی خبر بھی آچکی تھی ۔

مصباح الحق پر اس معطلی کا اطلاق ہیملٹن ٹیسٹ میں ہی ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ سیریز بچانے کے لیے پاکستانی ٹیم اپنے عبوری یا جزوقتی کپتان اظہرعلی کی قیادت میں میدان میں اترے گی ۔

پہلے ٹیسٹ میں آٹھ وکٹوں کی شکست کے بعد پاکستانی ٹیم زبردست دباؤ کا شکار ہے خاص کر اس کی بیٹنگ کرائسٹ چرچ میں بری طرح ایکسپوز ہوئی ہے ۔

پاکستانی بیٹسمینوں خصوصاً اوپنرز کا دوسری اننگز میں غیرضروری طور پر دفاعی خول میں بند ہوجانا کسی طور بھی گیم پلان کا نتیجہ نہیں بلکہ منفی سوچ کی عکاسی کررہا تھا۔

اظہرعلی نے صرف اکتیس رنز بنانے کے لیے 173 گیندیں کھیل ڈالیں جبکہ سمیع اسلم نے 57 گیندیں کھیل کر صرف سات رنز بنائے ۔

پاکستانی ٹیم کی حد سے زیادہ سست روی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے دوسری اننگز میں پہلے پچاس اوورز میں صرف 80 رنز اسکور کیے جو پندرہ سال میں اس کی سست ترین بیٹنگ ہے ۔

چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ بیٹسمینوں کو زیادہ مثبت سوچ اختیار کرنی چاہیے تھی کیونکہ آج کے دور میں اسٹرائیک روٹیٹ کرنا بہت ضروری ہے اگر آپ رنز نہیں کریں گے تو بولرز کو اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع دے دیں گے۔

پہلا ٹیسٹ یونس خان اور یاسر شاہ کے لیے انتہائی مایوس کن رہا۔

یونس خان پہلی اننگز میں دو اور دوسری اننگز میں صرف ایک رن بناسکے ۔ یہ تین رنز ان کے ٹیسٹ کریئر میں دونوں اننگز کا سب سے کم مجموعہ تھے۔

یاسر شاہ جن کا یہ بیس واں ٹیسٹ میچ تھا پہلی بار اپنے کریئر میں وکٹ سے محروم رہے تھے۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم میں شرجیل خان یا محمد رضوان کو کھلائے جانے کا امکان ہے۔ شرجیل خان کی ٹیم میں شمولیت کی صورت میں اظہرعلی اپنی پرانی پوزیشن ون ڈاؤن پر آجائیں گے۔

شرجیل خان اور محمد رضوان میں سے کوئی بھی ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلا ہے اور دونوں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔

ہیملٹن میں پاکستانی ٹیم اب تک چار ٹیسٹ میچز کھیل چکی ہے جن میں سے اس نے دو جیتے ہیں ایک ڈرا ہوا ہے اور ایک میں اسے شکست ہوئی ہے۔

اسی بارے میں