گیم اپنی اپنی، پلان اپنا اپنا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی بولنگ میں کوئی ٹیم پلان نظر نہیں آیا، ہر بولر کا اپنا ہی کوئی پلان تھا

وکٹیں حاصل کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ یا تو رنز دے کر وکٹیں حاصل کی جائیں یا پھر رنز روک کر وکٹیں پیدا کی جائیں۔ پہلا طریقہ آسان ہے، دوسرا مشکل۔

پاکستان نے ہیملٹن میں یہ دونوں طریقے تو آزمائے ہی، ساتھ ساتھ کچھ نئے طریقے ایجاد کرنے کی بھی کوشش کی۔

مثلا سہیل خان پہ میچ کے دوران ہی کہیں منکشف ہو گیا کہ جب رسم دنیا بھی ہے اور موقع و دستور تو ہے ہی، تو کیوں نہ شارٹ پچ بولنگ کر کے کیویز کو تہس نہس کر دیا جائے۔ پھر اس کے بعد انھوں نے آو دیکھا نہ تاو مسلسل چھوٹے گیند پھینکے۔ کوئی چوکا، کوئی چھکا ان کے آہنی عزائم کو متزلزل نہ کر سکا۔

ایک طریقہ یہ بھی آزمایا گیا کہ چونکہ وکٹ پہ گھاس ہے اور مطلع بھی ابر آلود ہے تو فیلڈ سیٹنگ پہ سر کھپانے یا صحیح لائن لینتھ پہ جانے کی کیا ضرورت، جو جی میں آئے پھینک دیجیئے۔

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا!

ہیں جی!

اب ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچیئے کہ اگر یہ ٹاس اظہر علی کی بجائے ولیم سن نے جیتا ہوتا اور پاکستان پہ بیٹنگ مسلط کی ہوتی تو کیا پاکستان اس وکٹ پہ 150 سکور بھی کر پاتا؟

اس میں شبہ نہیں کہ ٹاس جیتنا تو ہماری خوش قسمتی تھی اور پہلے بولنگ کرنا غالباً ہماری عقل مندی تھی، لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ہماری فطرت تھی یا قسمت؟

جہاں اُمید یہ تھی کہ چار پیسرز پہ مشتمل اٹیک نیوزی لینڈ کے بخیے ادھیڑ دے گا اور 150 پہ پوری کیوی ٹیم فارغ ہو جائے گی، وہاں نیوزی لینڈ نے کس طرح ہنستے کھیلتے 271 کا مجموعہ حاصل کر لیا؟ یہ وہ سوال ہے جو پاکستانی تھنک ٹینک کو آئینے میں پوچھنا چاہیے۔

صاحبو! ایک چیز ہوتی ہے گیم پلاننگ، جس کا ہمارے ہاں تو کچھ زیادہ رواج نہیں مگر ہمارے سوا سبھی اہل مغرب و مشرق اپنی آدھی سے زیادہ فتوحات محض اسی کی بنیاد پہ حاصل کرتے ہیں۔ ہیملٹن میں موسم جتنی تیزی سے بدلتا رہا، پاکستان کے گیم پلانز اتنے ہی سست رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیویز نے متواتر چھوٹی چھوٹی پارٹنرشپس لگائیں اور میچ پاکستان کے ہاتھ سے سرکتا چلا گیا

جب بادل چھاتے تو اچانک گیند سوئنگ اور سیم ہونے لگتا لیکن جونہی ذرا سی دھوپ پڑتی، گیند اچانک تمام غیر شائستہ حرکات چھوڑ دیتا اور رنز کی برسات شروع ہو جاتی۔ پاکستان کو پوری اننگز میں یہ سمجھ نہیں آ پایا کہ کب رنز دے کر اٹیک کرنا ہے اور کب رنز روک کر۔

اول تو پاکستانی بولنگ میں کوئی پلان نظر ہی نہیں آیا اور اگر حسن ظن کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے یہ مان بھی لیا جائے کہ بھئی کوئی نہ کوئی پر اسرار سا پلان تھا تو سہی، تو بھی اس پہ عمل کرنے کی کوئی خاص زحمت نہیں کی گئی۔

یوں لگ رہا تھا کہ کپتان نامی کوئی چیز گراؤنڈ پہ موجود نہیں۔ جب جس کے جی میں آئے، بولنگ شروع کر دے اور جب تک جی بھر نہ جائے بولنگ کرتا ہی رہے۔

کیویز کا پلان بالکل واضح تھا کہ وکٹیں گرتی ہیں تو بھلے گریں مگر رنز نہیں رکنے چاہیئیں۔ پاکستان کا زبردست جوابی پلان یہ تھا کہ بھئی رنز جتنے مرضی کر لو، آؤٹ تو ہم تمہیں کر کے رہیں گے۔ کیسا؟

مثلاً پہلی صبح عامر نے جیسی تباہ کن بولنگ کی، ایک بار تو یوں لگا کہ چھ سال پرانا عامر واپس آ گیا۔ مگر دوسرے اینڈ سے سہیل خان اس سے بھی اچھی بولنگ کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ رنز بنتے گئے اور عامر پہ بھی پریشر پڑتا گیا۔ رہی سہی کسر ہماری شہرہ آفاق فیلڈنگ نے پوری کر دی۔

اس کے برعکس اگر کیوی بولنگ کو دیکھا جائے تو ہنری بھی تو ساؤتھی جیسی ہی خطرناک بولنگ کر رہے تھے مگر انھوں نے نئی اختراعات کر کے وکٹیں لینے کی بجائے صرف رنز روکنے پہ دھیان دیا۔

پریشر پاکستان پہ پڑا اور ساوتھی نے 12 کے مجموعے پہ ہی تین بیٹسمین پویلین بھیج دیے۔ اگر سہیل خان بھی وہی کرتے جو ہنری نے کیا تو کیویز 200 سکور کر پاتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سہیل خان نے 99 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں

دونوں ٹیموں کی بولنگ میں ڈسپلن نمایاں فرق تھا۔ پاکستانی بولنگ میں کوئی ٹیم پلان نظر نہیں آیا، ہر بولر کا اپنا ہی کوئی پلان تھا۔ جس کا جب دل چاہتا شارٹ پچ کرنا شروع کر دیتا، یہ سوچے بغیر کہ اس کی سپیڈ اور صحت ایسی حرکات کی اجازت بھی دیتی ہے یا نہیں اور جس کی پہچان ہی شارٹ پچ بولنگ ہے، اس سے اٹیک ہی لیٹ کروایا گیا۔

نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ کیویز نے متواتر چھوٹی چھوٹی پارٹنرشپس لگائیں اور میچ پاکستان کے ہاتھ سے سرکتا چلا گیا۔

سہیل خان سے بہت لمبے سپیل کروائے گئے۔ عامر سے متواتر چھوٹے چھوٹے سپیل کروانے کی ضرورت تھی مگر نجانے کیوں نئی گیند کا انتظار کیا جاتا رہا۔

حالانکہ 68 اوورز میں سات آؤٹ کر لینے کے بعد اور نہیں تو مروتاً ہی ہمیں نئے گیند سے پہلے اننگز لپیٹنے کا سوچنا چاہئے تھا۔ ہمارے بولرز پوری اننگز میں صحیح لینتھ ہی ڈھونڈتے رہ گئے۔

اظہر علی کا چونکہ بطور کپتان یہ پہلا میچ تھا اس لیے ان کنڈیشنز میں ان سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا شاید درست نہ ہو گا مگر مکی آرتھر اور ان کے ہمنوا کدھر تھے؟ ہمارے گیم پلانز کدھر تھے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں