باکسر محمد وسیم سلور ویٹ ٹائٹل کے دفاع کے لیے پرعزم

محمد وسیم
Image caption محمد وسیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مقابلے کے لیے دو ماہ خاص ٹریننگ کی ہے

پاکستانی باکسر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ باکسنگ کونسل کے سلور ویٹ ٹائٹل کے اعزاز کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

اتوار کو وہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں فلپائنی باکسر گیمل مگرامو کے مدمقابل ہوں گے۔

سیول سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ان کی تیاری مکمل ہے اور وہ اپنے دفاع کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا حریف باکسر ایک سخت کھلاڑی ہے اور وہ ایک اچھی فائٹ کی امید کر رہے ہیں۔

محمد وسیم کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس مقابلے کے لیے دو ماہ خاص ٹریننگ کی ہے جس سے کے بعد وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تیار ہیں۔

خیال رہے کہ محمد وسیم نے جولائی میں فلپائن کے باکسر جیدر اولیوا کو شکست دینے کے بعد ورلڈ باکسنگ کونسل کا سلور فلائی ویٹ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جبکہ سنہ 2014 میں کامن ویلتھ گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔

محمد وسیم نے بتایا کہ وہ سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتنے والے پہلے جنوبی ایشیائی کھلاڑی ہیں لیکن پاکستان میں حکومت اور باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے انھیں کوئی سپورٹ نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ باکسنگ ایک مشکل کھیل ہے جس کے لیے جسمانی صحت اور ٹریننگ کا خرچ تعاون کے بغیر پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد وسیم نے سنہ 2014 میں کامن ویلتھ گیمز میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا تھا

محمد وسیم کا کہنا تھا کہ وہ دس سال سے باکسنگ کے میدان میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی حالیہ کامیابیوں کو سہرا کورین پروموٹر اینڈی کم کو دیتے ہیں جنھوں نے ہر موقع پر ان کو تعاون اور رہنمائی فراہم کی۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بلوچستان ایف سی کی جانب سے انھیں مالی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔

محمد وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اب بھی بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے اور بے شمار نوجوان باکسنگ کے کھیل میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے وہ آگے نہیں بڑھ پاتے۔

خیال رہے کہ محمد وسیم پروفیشنل باکسر بننے کے بعد امریکہ کے شہر لاس ویگس میں مقیم ہیں جہاں وہ مشہور باکسر فلائیڈ مے ویدر کے ٹریننگ سینٹر میں ٹریننگ کرتے ہیں اور فلائیڈ مے ویدر کے چچا جیف مے ویدر ان کےٹرینر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں