’دنیا کا خطرناک ترین بولنگ اٹیک‘

سہیل خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیملٹن کی وکٹ نے پانچ دن میں 15 بار اپنا رنگ بدل

یہ طے کرنا خاصا مشکل ہے کہ بحیثیت مجموعی ہماری بیٹنگ زیادہ خطرناک ہے یا بولنگ۔ مگر قرائن یہی بتاتے ہیں کہ ہماری بولنگ بہت زیادہ مہلک ہے، اتنی مہلک کہ دنیا کے کسی بھی بیٹسمین کی فارم لوٹا سکتی ہے۔

یہ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی کنڈیشنز میں جیت اچھی بیٹنگ سے زیادہ بولنگ ڈسپلن کی مرہون منت ہوتی ہے۔ ویسے بھی بیٹنگ سے گلہ تب کیا جاتا جب ان سے امید ہوتی۔ گرین وکٹ کا سن کر ہی پتا چل گیا تھا کہ ہمارے بیٹسمین کیسی دھماکے دار پرفارمنس دیں گے۔

مگر بولنگ کا معاملہ مختلف تھا۔

سہیل خان اور وہاب ریاض کی پرفارمنس دیکھ کر تو جی چاہتا ہے کہ اس موازنے میں بولنگ کو بلا مقابلہ فاتح قرار دیا جائے۔ مگر یونس خان اور اسد شفیق کی آٹھ اننگز پہ محیط سخت محنت کو نظرانداز کرنا بھی تو سراسر زیادتی ہے ناں۔

سیریز شروع ہونے سے پہلے جو اخباری بیانات اور پریس کانفرنسیں کیویز کی جانب سے سامنے آئیں، ان کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان کے پاس دنیا کا خطرناک ترین بولنگ اٹیک ہے، ان لیے یہ سیریز جیتنا مشکل ہو گا۔ دنیا کی اس مضبوط ترین بولنگ کے خلاف سیریز ڈرا کرنا بھی جیت سے کم نہیں ہو گا۔

تب یہ بات کچھ کچھ درست یوں لگی تھی کہ تجربہ کار کیوی بلے باز پہلے ہی آوٹ آف فارم ہیں اور نئے آنے والے تو ویسے ہی وہاب اور عامر کی دہشت سے کانپ رہے ہوں گے۔

مگر اب، جبکہ سیریز ہار چکے ہیں، ان بیانات کو دوبارہ دیکھا جائے تو گمان ہوتا ہے کہ کیویز یا تو پاکستانیوں کا دل رکھنے کو یہ سب کہہ رہے تھے یا پھر ہم پہ چوٹ کر رہے تھے۔ ورنہ بقائمی ہوش و حواس متواتر ایسی بے سروپا باتیں کہنا ممکن نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کو صدیوں بعد ایک چانس دیا گیا اور انھوں نے سب سے بہتر بولنگ کی

بہر طور یہ چرچا رہا کہ کرائسٹ چرچ کی گرین وکٹ پہ فاسٹ بولرز کشتوں کے پشتے لگا دیں گے اور پاکستانی بولرز کیویز سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔

اب ذرا ان بیانات کو ذہن میں رکھیے اور اس کارکردگی پہ نظر ڈالئے۔

کرائسٹ چرچ میں پاکستانی بولرز نے پورے میچ میں 90.2 اوورز پھینکے اور 308 رنز دے کر 12 وکٹیں حاصل کی۔ پہلی اننگ میں 146 پہ سات کیویز کو آوٹ کر لینے کے باوجود انھیں آخری تین وکٹوں کے لئے 54 رنز دینا پڑے۔ اور پاکستان انہی رنز کے سبب میچ سے باہر ہو گیا۔

اس کے برعکس اسی کرائسٹ چرچ کی وکٹ پہ، کم و بیش انہی کنڈیشنز میں، کیوی بولرز نے 134.3 اوورز پھینکے اور 304 رنز دے کر 20 وکٹیں حاصل کی۔

کیویز نے ہم سے بہتر ڈسپلن کا مظاہرہ کیا اور وکٹ کو صحیح بھانپ کر اچھے ایریاز میں بال پھینکا جبکہ پاکستانی بولرز نے پوری وکٹ پہ آوارہ گردی کی۔ سوائے ایک سیشن کے، پورے میچ میں ہمارا کوئی ایک پلان نظر نہیں آیا۔ ہر بولر نے حسب منشا بولنگ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاسٹ بولرز کے لیے گرین وکٹ پہ بولنگ کرنا ایک خواب ہوتا ہے، پاکستانی پیسرز کے لیے ایک سنہری موقع تھا

ہیملٹن ٹیسٹ سے پہلے ہنری نکولس نے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستانی بولنگ اٹیک دنیا کا خطرناک ترین اٹیک ہے اور ہیملٹن کی وکٹ پہ وہ نیوزی لینڈ کو بھرپور مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔ وہ سیریز برابر کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

اب ہنری نکولس کو کیا خبر کہ جب پاکستانی اپنی آئی پہ آ جائیں تو نہ کوئی گرین وکٹ ان رستہ روک سکتی ہے ، نہ کوئی خراب موسم۔ سو اصولاً جس وکٹ پہ پہلی اننگز میں 170 سے زیادہ رنز بننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہاں سہیل خان کی تباہ کن بولنگ کے طفیل ایک نوآموز نیوزی لینڈ نے 271 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔

جبکہ اسی وکٹ پہ شام کو کیوی پیسرز آئے تو صرف 51 رنز کے بدلے پانچ وکٹیں لے اڑے۔

کلیہ رنز روک کر اٹیک کرنا تھا نہ کہ رنز لٹا کر۔

جہاں پاکستان نے ہیملٹن میں 169.1 اوورز میں 584 رنز دے کر 15 وکٹیں حاصل کی، وہیں قدرے مشکل کنڈیشنز میں، بولنگ کرنے والے کیویز نے دس اوور کم پھینک کر 446 رنز کے بدلے 20 وکٹیں حاصل کر لی۔

اگرچہ یہ کیویز کی ہوم کنڈیشنز تھی اور پاکستان کے لئے بالکل نئی کنڈیشنز تھیں، لیکن مجموعی طور پہ پاکستان اور ان کی بولنگ میں چار بنیادی فرق نظر آئے: گیم سینس، ڈسپلن، فٹنس، ورائٹی۔

ہیملٹن کی وکٹ نے پانچ دن میں 15 بار اپنا رنگ بدلا۔ کبھی سیم ہو رہا ہے تو کبھی سوئنگ ہو رہا ہے، کبھی دونوں ہو رہے ہیں تو کبھی کچھ بھی نہیں ہو رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسد شفیق ایک بار پھر ناکام رہے

یہ پاکستان کے ساتھ بھی ہوا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی۔ مگر فرق یہ تھا کہ ان کے بولرز نے وکٹ کا مزاج بدلتا دیکھتے ہی اپنی لائن و لینتھ فوری ایڈجسٹ کی اور ڈسپلن کا مظاہرہ کیا جبکہ پاکستان وکٹ کی سنے بغیر بس اپنی کہتے چلے گئے۔

فاسٹ بولرز کے لیے گرین وکٹ پہ بولنگ کرنا ایک خواب ہوتا ہے۔ پاکستانی پیسرز کے لیے ایک سنہری موقع تھا یہ ثابت کرنے کا کہ وہ یاسر شاہ کے بغیر بھی میچ جیت سکتے ہیں مگر پاکستانی پیسرز نے اس موقعے کو گنوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

بلاشبہ، سہیل خان کی بیٹنگ نے بہت متاثر کیا اور عین ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لئے ایک اچھے بولنگ آل راونڈر ثابت ہوں مگر یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ ٹیسٹ ٹیم میں بطور فرنٹ لائن فاسٹ بولر نہیں کھیل سکتے۔ ان کی جسمانی حالت کے پیش نظر دوسری اننگز میں ان سے بولنگ کرانا ویسے ہی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عامر بہت اچھے اچھے سپیل پھینکتے ہیں۔ اب یہ ان کی بدقسمتی کہ کیچز ڈراپ ہو جاتے ہیں مگر ڈراپ کیچز کو اگر ایوریج پرفارمنس کی دلیل مانا جائے تو غالباً کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ کیچز وسیم اکرم کی بولنگ پہ ڈراپ ہوئے ہیں۔ لیکن کیا وسیم اکرم ایک کیچ ڈراپ ہونے کے بعد وکٹ پہ بے ہودگی سے پاوں مار کر چیخا کرتے تھے؟ کیا وہ دو کیچز ڈراپ ہونے کے بعد بے مغز بولنگ کرنے لگتے تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عامر کی بدقسمتی کہ ان کے کیچز ڈراپ ہو جاتے ہیں

وہاب ریاض اب اس ٹیم کا ایک نیا اٹوٹ انگ بن چکے ہیں۔ موصوف سال میں ایک سپیل ایسا پھینکتے ہیں کہ سب آئے ہائے کرتے رہ جائیں۔ سال کے باقی 364 ایام میں موصوف خوابوں میں بھی دنیا کے ہر بیٹسمین کو شارٹ پچ سے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں اور حسب ذائقہ مار کھاتے ہیں۔

ڈسپلن ان تینوں کا ایک سا ہے۔ ورائٹی کے معاملے میں بھی خاصی مماثلت ہے۔ تینوں کی جانب سے کوئی خاص سوئنگ دیکھنے کو نہیں ملی۔ شکر کیجیے کہ وکٹ کی مہربانی سے کچھ گیندیں سیم ہوتی رہیں تو بھرم رہ گیا۔ ورنہ گیند یا تو اندر آتا رہا یا سیدھا۔ آوٹ سوئنگ کی نایابی نے کیوی بلے بازوں کو پاوں جمانے کا خوب موقع دیا۔

عمران خان کو صدیوں بعد ایک چانس دیا گیا اور انھوں نے سب سے بہتر بولنگ کی۔ رنز روک کر دباؤ بڑھایا کیا اور جب گیند سیم یا سوئنگ نہیں ہو رہا تھا تب کٹر اور سلو ڈلیوری کا اچھا استعمال کر کے میچ میں چھ وکٹیں لی، بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔ انھیں مسلسل کھلانا اس ٹیم کے لیے بہتر ہے۔

راحت علی، جن کو غالبا پچھلے میچ میں چار وکٹیں لینے کی پاداش میں باہر بٹھایا گیا، موجودہ سکواڈ میں سے بہترین آپشن ہیں۔ وہ اچھی رفتار سے ان سوئنگ اور آوٹ سوئنگ کرتے ہیں۔ ہیملٹن میں ان کی جگہ وہاب ریاض کو کھلانے کا فیصلہ جس نے بھی کیا، وہ یقیناً تاریخ کے اوراق میں زندہ رہے گا۔

مگر بولنگ یونٹ، جو کہ بالکل بھی ایک یونٹ نظر نہیں آیا، کی خراب کارکردگی بیٹنگ لائن کو کوئی جواز فراہم نہیں کرتی۔ سمیع اسلم، بابر اعظم اور اظہر علی نے اچھا کم بیک کیا اور دوسرے میچ میں پاکستانی بیٹنگ کا بھرم رکھ لیا مگر یونس خان اور اسد شفیق کریز پہ جن حرکات میں مشغول پائے گئے، ان سے باقی بچوں کے کردار پہ بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہاب ریاض اب اس ٹیم کا ایک نیا اٹوٹ انگ بن چکے ہیں

مکی آرتھر کو چاہیے کہ جب یہ دونوں بیٹنگ پہ آئیں تو ڈریسنگ روم کا ٹی وی بند کر کے ریموٹ کرسی کے نیچے چھپا دیا کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بچے بڑوں سے اثر لینے لگیں۔

اس میں شبہ نہیں کہ اس سیریز میں ہماری شکست کا بنیادی سہرہ پاکستانی بولرز کے سر ہے مگر بلے بازوں نے بھی حسب توفیق اس ہار میں اپنا حصہ ڈالا۔

اب آسٹریلیا میں پاکستانی کھلاڑی کیا گل کھلائیں گے، اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ وہاں کی وکٹوں میں بھی باونس زیادہ ہوتا ہے۔ بیٹنگ لائن نے تو اس میچ میں اپنا اعتماد کافی حد تک بحال کر لیا ہے

مگر بولرز کو ایک اچھے پریکٹس میچ کے ساتھ ساتھ اچھی جسمانی اور ذہنی ٹریننگ کی بھی ضرورت ہو گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں