ریورس سوئنگ کون لوٹائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ کے کھیل میں ٹی ٹوئنٹی کی آمد کے بعد بیٹ اور بال کے درمیان توازن بری طرح متاثر ہوا ہے

جس طرح کے بیٹ سے ڈیوڈ وارنر آئے روز چھکوں چوکوں کی برکھا برساتے ہیں، سوچیے اگر ایسا کوئی بیٹ ویوین رچرڈز یا برائن لارا کے پاس ہوتا تو وہ بولروں کا کیا حشر کرتے؟

ایک وقت تھا جب خطرناک بولر اور خوبصورت بیٹسمین کرکٹ کی پہچان ہوا کرتے تھے، ڈینس للی، مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل، ویو رچرڈز، عمران خان، برائن لارا، رکی پونٹنگ، میک گرا، وسیم اکرم، راہول ڈراوڈ اور شعیب اختر جیسے کھلاڑی جب آمنے سامنے ہوتے تھے تو ایک ایک سیشن سالوں یاد رہتا تھا۔

کرکٹ کا بلا کیسے بنتا ہے ؟

تب چھکوں چوکوں کی برسات کرکٹ کا حسن نہیں سمجھی جاتی تھی۔ ایسی تفریح کبھی کبھار ہی دیکھنے کو ملتی تھی، مگر تب بھی اسے کرکٹ نہیں صرف تفریح ہی مانا جاتا تھا۔ اصل مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ اکرم ڈراوڈ کو کیسے آوٹ کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ صرف بلے بازوں کا کھیل بن کر رہ گیا جہاں بولر کا کام اچھی بولنگ کرنا نہیں، بلکہ محتاط بولنگ کرنا ٹھہرا۔ سونے پہ سہاگہ ہوئے آئی سی سی کے فری ہٹ اور پاور پلے جیسے نئے قوانین

شعیب اختر اور سچن ٹنڈولکر کے درمیان مقابلہ اتنا ہی کانٹے دار ہوتا تھا جیسا کبھی گلین میک گرا اور برائن لارا یا ویوین رچرڈز اور جیف ٹامسن کے درمیان ہوا کرتا تھا۔ خوبصورت یارکروں اور خطرناک باونسروں کے جواب میں دلکش سٹروکس کرکٹ کو رعنائی بخشتے تھے اور شائقین کے ذہنوں میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتے تھے۔

مگر پھر سنہ 2007 آیا، پہلا ٹی 20 ورلڈ کپ ہوا۔ پھر آئی پی ایل آئی، دیکھا دیکھی ہر ملک نے اپنی لیگ شروع کی، ہر چوکے چھکے پر چیئر لیڈرز کی پرفارمنس نے تفریح کو اور بڑھاوا دیا۔ دھیرے دھیرے تفریح نے کرکٹ کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔

سو ہوا یہ کہ جہاں کبھی وسیم اکرم اور برائن لارا جیسے کھلاڑی کرکٹ کا استعارہ ہوا کرتے تھے، اب وہاں ہمیں کرس گیل اور سہیل تنویر وغیرہ پر اکتفا کرنا پڑتا ہے۔ (واضح رہے کہ یہ دونوں ٹی 20 کے چند بہترین کھلاڑیوں میں سے ہیں۔)

بولروں کا کھیل یعنی ٹیسٹ کرکٹ تو ویسے ہی رو بہ زوال ہے، اب تو ون ڈے میچ بھی اچھی بولنگ سے کم اور دھواں دھار بیٹنگ سے زیادہ جیتے جاتے ہیں۔ ٹی 20 تو خیر ہے ہی چھکوں چوکوں کا کھیل، بولر تو یہاں بس اپنی عزت بچانے کی تگ و دو ہی کر سکتے ہیں۔

کرکٹ کے کھیل میں ٹی 20 کی آمد کے بعد بیٹ اور بال کے درمیان توازن بری طرح متاثر ہوا ہے۔

Image caption جوں جوں چھکے چوکے بڑھتے گئے، یارکر، ان سوئنگ، آوٹ سوئنگ اور ریورس سوئنگ سبھی غائب ہونے لگے

جوں جوں چھکے چوکے بڑھتے گئے، یارکر، ان سوئنگ، آوٹ سوئنگ اور ریورس سوئنگ سبھی غائب ہونے لگے۔ کرکٹ صرف بلے بازوں کا کھیل بن کر رہ گیا جہاں بولر کا کام اچھی بولنگ کرنا نہیں، بلکہ محتاط بولنگ کرنا ٹھہرا۔ سونے پہ سہاگہ ہوئے آئی سی سی کے فری ہٹ اور پاور پلے جیسے نئے قوانین۔

گذشتہ چند برسوں میں جتنے بھی نئے قوانین متعارف کرائے گئے زیادہ تر بلاواسطہ بلے بازوں کے حق اور بالواسطہ بولروں کے خلاف رہے ہیں۔ نئے قوانین بننے کا فائدہ تو بلے بازوں کو ہوا ہی، کچھ قوانین کا عدم وجود بھی بلے بازوں کے لیے ہی مددگار ثابت ہوا۔

جب ایک اچھی آوٹ سوئنگ پر ایج لگ کر بھی گیند سلپ کے اوپر سے باؤنڈری پار کر جائے، جب تیز رفتار باؤنسر بیٹ کے کسی بھی کنارے پر لگ کر چھکا بن جائے اور جب اچھے یارکر اندرونی کنارے پر لگنے کے بعد بھی وکٹ اڑانے کی بجائے بولر کے ہی ہوش اڑا دیں تو ایسے میں فاسٹ بولر کے پاس کیا چارہ ہے سوائے اس کے کہ آڑی ترچھی دھیمی آنچ کی گیندوں سے بس اپنا کوٹہ پورا کرے اور کسی طرح بلے بازوں کے قہر سے بچ جائے۔

یہ اچنبھے کی بات ہے کہ اب تک کے آئی سی سی قوانین میں بیٹ کے کناروں کی موٹائی اور بیٹ کی گہرائی بارے کوئی واضح قوانین ہی نہیں تھے۔ سنہ 2014 میں پہلی بار اس بحث کا آغاز ہوا مگر کرکٹ کے ارباب اختیار کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

اس بار ایم سی سی کے اجلاس میں جو نئے قوانین زیر بحث آئے، ان میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بیٹ کا سائز ہی رہا۔ اب یہ قانونی طور پر طے کیا جائے گا کہ بیٹ کی موٹائی کی حتمی حد کیا ہے اور کناروں کی چوڑائی زیادہ سے زیادہ کتنی ہو سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب بیٹ کی جسامت و ضخامت کی قانونی حدود متعین ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ ڈیوڈ وارنر کے بیٹ کے باہری کنارے کو چھوتی گیند واقعی باؤنڈری تک جا سکتی ہے یا نہیں

ایم سی سی کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد کرکٹ کو 50، 60 کی دہائی میں دھکیلنا ہرگز نہیں بلکہ اس توازن کو بحال کرنا ہے جو بیٹ اور بال کے درمیان ختم ہوتا جا رہا تھا۔ اب یہ تو آئی سی سی کو ہی طے کرنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق کب اور کیسے ہو گا لیکن اگر اس قانون کا اطلاق ہو گیا تو ہمیں کافی دلچسپ اور بہتر کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

جب بیٹ کی جسامت و ضخامت کی قانونی حدود متعین ہوں گی تو پتہ چلے گا کہ ڈیوڈ وارنر کے بیٹ کے باہری کنارے کو چھوتی گیند واقعی باؤنڈری تک جا سکتی ہے یا نہیں۔ کرس گیل کے کتنے شاٹ اڑ کر تماشائیوں کی گود میں گر سکتے ہیں اور مہندر سنگھ دھونی آخری اووروں میں کتنی میچ وننگ اننگز کھیل سکتے ہیں۔

یہ تو واضح ہے کہ اب بلے باز ایکسپوز ہوں گے، رنز کم بنیں گے اور میچ جان دار ہوں گے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ ایسے قوانین سے فاسٹ بولنگ کا سنہرا دور بھی لوٹ آئے گا جو ان سوئنگ یارکر دیکھے برسوں بیت گئے، کیا اب وہ دیکھنے کو ملیں گے؟ جو خطرناک باونسر جو 80 کی دہائی کا خاصہ تھے، وہ پھر سے رواج پا سکیں گے؟

اور ہر دو سے زیادہ اہم سوال تو یہ ہے کہ جو ریورس سوئنگ ون ڈے میں دو نئی گیندوں کے استعمال سے غائب ہوئی، وہ کون لوٹائے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں