سپانسر شپ نہ ملی تو ٹائٹل چھن جائے گا: محمد وسیم

Image caption محمد وسیم نے گذشتہ ماہ کوریا میں اپنے ورلڈ باکسنگ کونسل کے سلور فلائی ویٹ ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا تھا

ورلڈ باکسنگ کونسل کا سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتنے والے پاکستانی باکسر محمد وسیم نے گولڈ ٹائٹل کے مقابلے کے لیے سپانسرز نہ ملنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے محمد وسیم نے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ باکسنگ کونسل کا سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتنے کے بعد اب وہ گولڈ ٹائٹل کے مقابلے میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے ان کو سپانسر چائیے لیکن ابھی تک سپانسر نہیں ملے۔

انھوں نے حکام سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کی جانب سے ان کو سپانسر کرنے کے جو وعدے کیے گئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا اگر ان کو 19 دنوں میں سپانسرز نہیں ملے تو وہ اپنے اعزاز سے محروم ہوجائیں گے۔

محمد وسیم نے کہا کہ اگر صرف اسپانسر نہ ملنے کہ وجہ سے وہ اپنے اعزاز سے محروم ہوئے تو یہ انتہائی افسوسناک ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ اب تک ان کو کورین پروموٹر اینڈی کم سپانسر کرتے رہے ہیں لیکن پاکستان سے سپانسر شپ کے وعدے پورے نہ ہونے کے باعث انھوں نے انھیں مزید سپانسر کرنے سے انکار کیا ہے۔

محمد وسیم کا کہنا تھا کہ کوریا میں ان کو لوگ سپانسر کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی شرط یہ ہے کہ میں پاکستان کی شہریت ترک کروں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اب تک جتنے بھی مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ان میں وہ پاکستانی کی حیثیت سے حصہ لیتے رہے لیکن اب وہ کس طرح چند سپانسر کے لیے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کریں۔

محمد وسیم نے گذشتہ ماہ کوریا میں اپنے ورلڈ باکسنگ کونسل کے سلور فلائی ویٹ ٹائٹل کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ ٹائٹل جیتنے والے نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے پہلے کھلاڑی ہیں۔

اسی بارے میں