جب کسی کو ٹیسٹ میچ کے ٹائی ہونے کا مطلب نہیں معلوم تھا

ٹیسٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ ٹیسٹ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا تھا

14 دسمبر سنہ 1960 کو اختتام ہونے والا ٹیسٹ میچ ٹیسٹ تاریخ کا 498 واں بین الاقوامی میچ تھا جسے تاریخ کے دلچسپ ترین میچز میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ پہلا ٹیسٹ میچ تھا جو ٹائی ہوا تھا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسے دو ہی مواقع آئے ہیں، جب میچ ٹائی ہوا ہو۔

اس ٹیسٹ میچ کی کہانی بی بی سی ہندی کے پردیپ کمار نے کچھ اس طرح بیان کی ہے۔

برسبن کے گابا میدان میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے لیے آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم نو دسمبر، 1960 کو میدان میں اتری تو کیریبین ٹیم کا پلڑا جھکا ہوا تسلیم کیا جا رہا تھا۔

فرینک وارل کی قیادت والی ویسٹ انڈیز ٹیم میں گیری سوبرس اور روہن کنہائی جیسے بڑے کھلاڑی موجود تھے جبکہ میزبان آسٹریلوی ٹیم رچی بینو کی کپتانی میں کھیل رہی تھی۔

پہلے دن گیری سوبرز نے عمدہ 132 رنز کی اننگز کھیلی اور ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز 453 رنز پر ختم ہوئی۔

اس کے بعد آسٹریلوی ٹیم نے نورم او نيل کی 181 رنز کی اننگز کی بدولت 505 رنز کا بڑا سکور حاصل کیا۔ اور اس کے ساتھ 52 رنز کی برتری بھی حاصل کر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CENTRAL PRESS/HULTON ARCHIVE/GETTY IMAGES
Image caption رچی بینو آسٹریلیا کی قیادت کر رہے تھے

میچ کی دوسری اننگز میں روہن کنہائی نے 54 رنز اور فرینک وارل نے 65 رنز کی اہم اننگز کھیلی اور ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 284 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

آسٹریلیا کے لیے پہلی اننگز میں پانچ وکٹ لینے والے ایلن ڈیوڈسن نے دوسری اننگز میں چھ وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کو مقابلے میں برقرار رکھا تھا۔

میچ کے آخری دن یعنی 14 دسمبر کو آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز شروع کی۔ جیت کے لیے اسے 233 رنز بنانے تھے لیکن ویسٹ انڈیز کے تیز گیند باز ویزلی ہال کے سامنے آسٹریلوی ٹیم کو کریز پر ٹھہرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

چائے کے وقت تک آسٹریلیا نے چھ وکٹ گنوا دیے اور سکور بورڈ پر صرف 109 رنز تھے۔

چائے کے وقفے تک کپتان رچی بینو اپنے ساتھی آل راؤنڈر ایلن ڈیوڈسن کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔

ٹی بریک کے دوران کا ایک دلچسپ قصہ رچی بینو نے اپنی کتاب 'دی ٹیل آف ٹو ٹیسٹس' میں رقم کیا ہے۔ قصے کے مطابق ٹی بریک کے دوران، اس وقت آسٹریلیا کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈان بریڈمین نے بینو سے پوچھا کہ کیا ہوگا اس ٹیسٹ میں؟ بینو نے ان سے کہا کہ ’ہم ٹیسٹ جیت جائیں گے۔ جواب سن کر ڈان بریڈمین نے کہا: یہ سن کر تو بہت اچھا لگا۔‘

بہر حال، بینو نے اپنے باس سے جو کہا، وہ میدان میں بھی کر دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ WEST INDIES CRICKET BOARD
Image caption گیری سوبرز نے پہلی اننگز میں سنچری سکور کی تھی

ساتویں وکٹ کے لیے انھوں نے ڈیوڈسن کے ساتھ ریکارڈ 134 رنز بنائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹیم فتح کے قریب پہنچ گئی۔ جب ٹیم کو محض سات رنز چاہیے تھے، تب ڈیوڈسن 80 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

میچ کے آخری اوور میں آسٹریلیا کو چھ رنز بنانے تھے اور اس کے تین وکٹ باقی تھے۔ اس زمانے میں ایک اوور میں آٹھ گیندیں پھینکی جاتی تھی۔

لیکن ویزلی ہال کا ارادہ کچھ اور ہی تھا۔ ان کی دوسری گیند پر بینو ہک شاٹ کھیلنے کی کوشش میں آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد آخری تین گیندوں پر تین رنز بنانے تھے۔ چھٹی گیند پر والی گرٹ جیت کا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئے۔

میچ کی آخری سے پہلے والی گیند پر ایئن میکف بھی رن آؤٹ ہو گئے۔ انھیں جوے سولومن نے سكوائر لیگ سے اپنے براہ راست تھرو پر رن آؤٹ کر دیا۔

سولومن کے ہی تھرو پر ایلن ڈیوڈسن آؤٹ ہوئے تھے۔ اس ٹیسٹ کی 50 ویں سالگرہ کے موقعے پر جب سنہ 2010 میں کچھ ٹیسٹ كھلاڑی برسبن میں یکجا ہوئے، تب ایلن ڈیوڈسن نے کہا تھا کہ اگر وہ يوسین بولٹ بھی ہوتے تو بھی اس دن سولومن کی تھرو پر رن آؤٹ ہو گئے ہوتے۔

اس ٹیسٹ سے پہلے کسی کو ٹیسٹ میچ کے ٹائی ہونے کا مطلب نہیں معلوم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرینک وارل ویسٹ انڈیز کی قیادت کر رہے تھے

لہذا آسٹریلوی کھلاڑی اس طرح کا برتاؤ کر رہے تھے گویا وہ میچ ہار گئے ہوں۔ لیکن جلد ہی انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ نہ تو میچ ہارے ہیں اور نہ ہی ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے میچ جیت لیا ہے۔

بہرحال، اس ٹیسٹ میچ کو 56 سال گزر چکے ہیں۔ لیکن یہ آج بھی ٹیسٹ تاریخ کے سب سے زیادہ دلچسپ مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ٹیسٹ تاریخ کا پہلا ٹائی ٹیسٹ 83 سال کے طویل انتظار کے بعد 498 ویں ٹیسٹ میں واقع ہوا۔ اس کے بعد 1986 میں مدراس میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلا جانے والا ٹیسٹ ٹائی ہوا تھا۔

تقریباً 140 سال کی طویل ٹیسٹ تاریخ میں صرف دو ٹیسٹ میچ ہی ٹائی ہوئے ہیں اور آسٹریلوی ٹیم دونوں بار اس کا حصہ رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں