تاریخ رقم ہونے کو ہے!

وسیم اکرم تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

’کیا پاکستان اس بار جیتے گا؟‘ پچھلی تین دہائیوں میں جب کبھی پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے دورے پہ روانہ ہوئی، ہر بار اسے اسی سوال کا سامنا رہا۔

اس سوال کی تہہ میں وہ تاریخ ہے جو یہ بتاتی ہے کہ بھلے اس ٹیم کا قائد عمران خان ہو اور اس کے پیس اٹیک میں دنیا کا بہترین لیفٹ آرم فاسٹ بولر وسیم اکرم ہو، یہ ٹیم آسٹریلیا میں آسٹریلیا سے نہیں جیت پاتی ہے۔

بادی النظر میں اس ریکارڈ کی وجہ آسٹریلین کنڈیشنز ہیں جو پاکستانی بلے بازوں کے مزاج کے موافق نہیں ہیں۔ مگر پاکستان کا مسئلہ اسی پر ختم نہیں ہوتا۔

یہ تو تاریخ جانتی ہے کہ ایک طویل عرصے تک کرکٹ میں پاکستان کی پہچان فاسٹ بولنگ ہی رہی ہے۔ یہ بات بھی سبھی جانتے ہیں کہ آسٹریلین کنڈیشنز میں بولنگ کرنا دنیا کے کسی بھی فاسٹ بولر کا خواب ہوتا ہے مگر آسٹریلیا میں پاکستانی فاسٹ بولرز کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھا جائے تو سوائے وسیم اکرم کے کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو یاد رکھا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption بلے بازوں کے اپنے خول سے باہر آنے کی ضرورت ہے

اگر ایک بولر کو یہ معلوم ہو کہ اس سے پہلے اس کے ہیروز نے انھی وکٹوں پر کوئی یادگار پرفارمنس دی تھی تو اس میں یہ یقین آ جاتا ہے کہ وہ بھی کچھ ویسا ہی کر سکتا ہے اور اگر اس یقین کے ساتھ ساتھ کچھ ہمت بھی در آئے تو وہ اس ریکارڈ سے آگے بڑھ کر اپنا نام تاریخ میں رقم کروانے کا بھی سوچنے لگتا ہے۔

لیکن وہاب ریاض، محمد عامر، راحت علی، عمران خان اور سہیل خان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی سابقہ مثال نہیں ہے۔ ان کو صرف اپنا ہی ریکارڈ درست نہیں کرنا ہے بلکہ از سر نو آسٹریلین کنڈیشنز میں پاکستانی بولنگ کا ریکارڈ بھی طے کرنا ہے۔ یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستانی بولرز آسٹریلیا میں بھی ویسا کر سکتے ہیں جیسا وہ آسٹریلیا کے سوا دنیا کے ہر خطے میں کر چکے ہیں۔

آخر ایسا کیا تھا کہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے والی پاکستانی بولنگ آسٹریلیا میں کبھی بھی اپنی شہرت کی لاج نہ رکھ پائی؟ اس کا بہترین جواب ہمیں وسیم اکرم کے اس بیان میں مل سکتا ہے جو انھوں نے آسٹریلیا کے دورے کے بعد دیا تھا:

'مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بیٹسمین آسٹریلیا پہنچتے ہی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہر شارٹ پچ بال ایک خطرناک باؤنسر ہے اور ہمارے بولر جوش میں آ کر ہر بال پیچھے پھینکنے لگتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ پاکستانی بولرز مہارت اور صلاحیت میں اپنے کسی بھی ہم عصر اٹیک سے کم نہیں ہیں

ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہاں پاکستانی بیٹسمین ہمیشہ آسٹریلین کنڈیشنز سے خائف رہے ہیں، وہیں پاکستانی بولر ہمیشہ ضرورت سے زیادہ پر جوش رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ فاسٹ بولنگ میں جوش نہ ہو تو مزا ہی کیا ہے لیکن اگر وہ جوش کسی اچھے ریکارڈ کا باعث نہیں بن رہا تو یقینا پاکستانی بولرز کو اپنی پلاننگ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

اگر آپ یہ طے کر چکے ہیں کہ شارٹ آف لینتھ گیند آسٹریلین کنڈیشنز میں آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہے تو یہ بھی جان رکھیے کہ آسٹریلیا کا ہر بیٹسمین انھی وکٹوں پہ ایسی لینتھ کھیل کھیل کر ہی بیٹسمین بنا ہے۔ یہ آسٹریلین بیٹسمین کا کمفرٹ زون ہے۔

وہاب ریاض اور واٹسن والے ایک سپیل کے علاوہ ہمارے پاس دوسری کوئی مثال نہیں جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ کسی پاکستانی بولر نے شارٹ آف لینتھ بولنگ پر کسی آسٹریلوی بیٹسمین کو لاجواب کر دیا ہو۔

اگر پاکستان کو آسٹریلیا میں تاریخ رقم کرنا ہے تو پاکستانی بولنگ کو بھی اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہو گا، ویسے ہی جیسے اسد شفیق نے پاکستانی بیٹنگ کو اس کے کمفرٹ زون سے نکال کر دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وہاب ریاض نے شاٹ آف لینتھ گیند پر ایک بار یادگآر سپیل کیا تھا

یہ پاکستانی بولرز مہارت اور صلاحیت میں اپنے کسی بھی ہم عصر اٹیک سے کم نہیں ہیں، اگر یہ صرف اپنی لینتھ کو بہتر کر لیں تو ہر آسٹریلین بیٹسمین کو اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑے گا۔ تب وہ ایسے مواقع فراہم کریں گے جن سے فائدہ اٹھا کر کوئی بھی بولر اپنی کریئر بیسٹ پرفارمنس دے سکتا ہے۔

'کیا پاکستان اب کی بار جیتے گا یا تاریخ خود کو دہرائے گی؟'

ہر بار کی طرح اس بار بھی آسٹریلیا روانگی سے پہلے پاکستان کو اسی سوال کا سامنا تھا۔ مگر برسبین کی چوتھی اننگز نے کچھ ایسا کر ڈالا ہے کہ اب اسی سوال کا سامنا پاکستان کی بجائے آسٹریلیا کو ہے۔

یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں