عراق کی بس یہی کہانی ہے

سمارہا
Image caption سمارہ میں امام عسکری کی مسجد

کربلا سے بغداد جاتے ہوئے مخدوش سیکورٹی حالات کے باعث مجھے اپنے دل کی دھڑکن میں خوف کی سرسراہٹ واضح سنائی دے رہی تھی۔

دوسری ہجری کے وسط میں دجلہ کے کناروں پر تعمیر کیا جانے والا شاندار بغداد، ایک الف لیلوی کردار کی طرح سے ہمیشہ میرے ذہن پر غالب رہا۔ جب اسلامی مملکت کا اقتدار امویوں سے عباسیوں کے پاس آیا، تو امویوں کے پایہ تخت کو بھی خیر باد کہہ دیا گیا۔ تبدیلی کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی، مملکت اسلامی پھیل رہی تھی اور فتوحات کے نتیجے میں آنے والی دولت کی فراوانی تھی۔ شہر کی تعمیر کروانے کے لیے دنیا بھر سے بہترین ماہر تعمیرات بلوائے گئے تھے۔

عباسی خلفاء کے محلات، حرم، ان کی تہذیب، دنیا بھر کی کتب سے لدی ہوئی لائیبریاں، علم و ہنر کی داستانیں، ایک کثیرالثقافتی معاشرہ، بس سب کچھ محض تاریخ کے صفحات پر باقی رہ گیا۔

افسوس اب میرے سامنے اجڑا ہوا بغداد تھا۔ ہماری کوچ بغداد کے علاقے کاظمیہ جانے کے لیے شہر میں داخل ہو کر جس راستے سے گزر رہی تھی، بالکل عام سا شہر لگا۔ درودیوار پر عجب ویرانی سی ٹپک رہی تھی، اتنا قدیمی علاقہ ہونے کے باوجود ترقی سے کتنا دور اور پسماندگی سے کتنا قریب تر تھا۔ کئی عمارتیں لڑائی کی داستان سناتی نظر آرہی تھیں۔

تھوڑی دیر میں کوچ ایک سٹینڈ پر جا کر رک گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ سیکورٹی کی وجہ سے زائرین کی کوچ یہاں سے آگے نہیں جاسکتی۔ ایک خصوصی شٹل میں یہاں سے آگے جانا ہوگا۔ کاظمیہ میں بی بی فاطمہ کی نسل کی ساتویں پیڑھی اور امام موسی کاظم اور ان کے پوتے نویں امام تقی کے مزار ایک ہی چھت کے نیچے ہیں۔ عراق کی مسلکی لڑائی میں کاظمیہ خاص نشانے پر ہے۔

کچھ برس قبل امام موسی کاظم کے یوم شہادت پر پیدل آنے والے زائرین پر بم حملوں کے نتیجے میں کوئی ایک ہزار کے لگ بھگ افراد مارے گئے تھے جن میں درجنوں دریائے دجلہ میں بہہ گئے تھے۔

لیکن جب میں مزار کے اندر داخل ہوئی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس قدر مخدوش حالات کے باوجود روضے کی عمارت میں کس قدر لوگ بھرے ہوئے تھے، نجف اور کربلا سے زیادہ رش تھا یہاں۔ قبر کی جالیوں کے قریب گریہ و زاری کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

قبر کی جالی کے قریب پہنچنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا، میں نے فاتحہ پڑھی اور عراق میں امن و سکون کے لیے دعا مانگی، باہر صحن میں آکر نماز پڑھی۔ اورسمارا کے لیے روانہ ہوگئے۔

Image caption نجف میں روضہ امام علی

سمارا بغداد کے شمال میں کوئی 125 کلومیٹر دور ہے۔ سمارا کی عسکری مسجد میں امام حسن عسکری دفن ہیں۔

سمارا جاتے ہوئے میں نے بجلی کے کھمبوں اور درختوں پر لڑائی میں مارے جانے والے نوجوانوں کی پوسٹر نما تصویریں آویزاں دیکھیں، میرے پوچھنے پر ہماری گائیڈ نے بتایا کہ جب داعش لڑتی ہوئی سمارا اور بلد تک آپہنچی تو آیت اللہ سیستانی کی اپیل پر بہت سے شعیہ نوجوان رضاکارنہ طور پر بھرتی ہوئے۔

دھول اُڑاتے ہوئے ویران راستے اور کئی جگہوں پر عمارتیں اور گھر گولہ باری سے منہدم نظر آئیں۔ صدام حسین کے دور اقتدار میں ان علاقوں کو سنی مثلث کہا جاتا تھا جو دو مرتبہ جنگ سے متاثر ہوئے۔ اس دوران امام عسکری کے روضے کے سنہری گنبد کو میزائل مار کر اڑا دیا گیا تھا۔ کچھ برسوں بعد داعش لڑتی ہوئی یہاں تک آپہنچی اور خدشہ تھا اگر یہاں نہ روکا گیا تو داعش کا اگلہ ہدف بغداد ہوگا۔ بس اسی موقع پر سینکڑوں نوجوان رضاکارانہ طور پرمحاذوں پر گئے۔ جو ظاہر ہے کسی مناسب پیشہ وارانہ تربیت کے بغیر فرقہ وارانہ جنگ کا ایندھن بن گئے۔

عراق پر امریکی حملے سے پہلے عسکری مسجد میں سنی حضرات بھی نماز ادا کرتے تھے۔ مگر یہ منظر یکسر بدل چکے ہیں۔ شعیہ سنی جنگجوؤں کے درمیان لا حاصل اور لا متناہی محاذ آرائی کی وجہ سے جو خوف اور پریشانی کے بادل چھائے، اس نے صدیوں سے ہمسائیگی میں رہنے والوں کے لیے فضاؤں میں زہر بھر دیا۔انھیں اپنے اپنے گھر چھوڑ کر اپنے اپنے فرقے کےعلاقوں کی جانب نقل مکانی پڑی۔ اور یوں عراق ایک کثیر الثقافتی معاشرے کے کھلی گلی سے نکل کر فرقوں کی چھوٹی چھوٹی تنگ گلیوں میں داخل ہوچکا ہے۔

سمارا سے کوفہ شہر کی جانب جاتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں ایک تاریخ میں سفر کررہی ہوں۔ کتنا پر شکوہ ہوگا، وہ شہر جو خود ایک تاریخ ہے۔ مگر یہ تو بالکل عام سے شہر نکلا۔

Image caption کاظمیہ میں امام موسی کاظم کے روضے کا بیرونی منظر، مزار کے چاروں جانب بازار اور ہوٹل ہیں

کوفہ پہلی ہجری میں اسلامی ممکت میں شامل ہونے سے پہلے ایران کا حصہ اور ایک متمول خطہ تھا۔آب و ہوا معتدل تھی۔ اسلام کے خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق کے عہد میں یہ فوجی چھاؤنی بنا ۔ لیکن جب شام اور کوفہ میں بے چینی اور شورش کا ماحول بننے لگا تو سن چھتیسں ہجری میں حضرت علی نے دار الخلافہ مدینے سے کوفہ منتقل کردیا۔ یہاں آنے کے بعد جس مسجد میں انھوں نے قیام کیا وہی ان کی آخری منزل ٹھہری۔

حالیہ تاریخ میں یہ مسجد پہلے صدام حسین اور پھر امریکی فوج کے خلا ف مزاحت کی علامت بن کر ابھری۔ مسجد کوفہ میں نماز کے اجتماعات میں صدام حسین کے ایک بڑے ناقد مقتدیٰ الصدر کے والد آیت اللہ الحکیم الصدر کو نماز جمعہ پڑھا کرواپس آتے ہوئے ہلاک کردیا گیا تھا۔ شعیوں نے ہمیشہ اس کا الزام سرکاری ایجینسوں پر عائد کیا۔ان کے بعد ان کے صاحبزادے مقتدیٰ الصدر بھی کوفہ کی مسجد سے سیاسی مزاحمت کرتے رہے، جس کے لیے انھوں نے مسلح ملیشیا بھی بنائی تھی اور نجف میں امر یکیوں کے خلاف لڑتے ہوئے وہ اک مقبول سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے۔

نجف، کربلا، بغداد، سمارا، بلد اور کوفہ جیسے شہروں میں جہاں مذہبی سیاحت اس قدر بڑھ چکی ہے۔ مجھے نہ تو صفائی کے مناسب انتظامات نظر آئے اور نہ معیاری سہولتیں۔ جبکہ بالکل بنیادی فریضے نماز کی ادائیگی کے لیے بھی پانی اور صاف جگہ لازمی جزو ہے، مگر عمومی طور پر مسلمانوں میں نظم و ضبط کی کمی ہے۔

واپسی کے لیے نجف کے ہوائی اڈے جاتے ہوئے ہمارے ساتھ سفر میں شامل ایک شیعہ عراقی نوجوان کا کہنا تھا کہ ’صدام حسین کے دور اقتدار میں ہمیں اتنی آزادی نہیں تھی مگر امن تھا۔اب آزادی مل گئی مگر گھر سے نکلنے پر یہ پتہ نہیں ہوتا کہ گھر واپس آئیں گے یا نہیں۔‘

ایک عراقی شاعرہ دنیا میخائیل کا نوحہ کہیں پڑھا تھا ’جنگ کتنی خوشیاں لاتی ہے، کفن سینے اور قبریں کھودنے والوں کے لیے۔‘

عراق کی بس اب یہ ہی کہانی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں