کلماڈی کا اولمپکس ایسوسی ایشن کا عہدہ قبول کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ماضی میں کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے انڈین سیاستدان سریش کلماڈی نے ملک کی اولمپکس ایسوسی ایشن کا اعزازی عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سریش کلماڈی 2010 میں ہونے والے دولت مشترکہ کے کھیلوں کے سربراہ تھے۔

انڈیا کے کھیلوں کے وزیر نے ان کو اعزازی عہدہ دینے کے فیصلے کو 'مکمل طور پر ناقابلِ قبول' قرار دیا۔

مسٹر کلماڈی اس وقت دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش میں حصہ داری کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدان کو 2011 میں دولت مشترکہ کھیلوں میں ان کی کردار کی وجہ سے اپنے عہدے سے برخاست کر دیا گیا تھا اور انھوں نے ضمانت ملنے سے پہلے 10 ماہ کا عرصہ جیل میں گزارہ تھا۔

انڈین اولمپکس ایسوسی ایشن کے صدر راماچندرن کو لکھے گئے ایک خط میں مسٹر کلماڈی نے تاحیات صدر بنائے جانے پر ایسوسی ایشن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

'تاہم میں نہیں سمجھتا کہ اس وقت میرے لیے یہ عہدہ قبول کرنا مناسب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میرے خلاف لگنے والے الزامات غلط ثابت ہوں گے اور میں اس وقت تک یہ اعزاز قبول کرنے کو موخر کرتا ہوں۔'

انڈیا کے کھیلوں کے وزیر نے دھمکی دی تھی کہ اگر آئی اے اور نے مسٹر کلماڈی اور کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک اور سیاستدان ابھے سنگھ چوتالا کو اعزازی عہدے دینے کا فیصلہ نہ بدلا تو ان کا محکمہ آئی او اے سے اپنے تعلقات منقطع کر لے گا۔

اسی بارے میں