بطور بلے باز ٹیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہے: مصباح

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصباح الحق گذشتہ سات اننگز میں کوئی بھی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اگر وہ ٹیم کے لیے بطور بیٹسمین کچھ نہیں کر پاتے ہیں تو ان کی جگہ کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہوگا۔

میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اب ان کے ٹیم میں رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنے کا وقت آگیا ہے۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ ’میرے لیے تو گذشتہ چھ سالوں سے ہر صورتحال ہی الارمننگ رہی ہے اور میں جانتا ہوں کہ لوگ تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

٭ پاکستان میلبرن ٹیسٹ اور سیریز ہار گیا

٭ مصباح کی بطور کپتان ٹیسٹ میچوں کی نصف سینچری

٭ بیالیس سالہ 'نوجوان' مصباح الحق کی لارڈز میں سنچری

خیال رہے کہ میلبرن میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز پاکستان کی پوری ٹیم اپنی دوسری اننگز میں صرف 163 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور اس طرح اسے اننگز اور 18 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس میچ کی پہلی اننگز میں مصباح الحق 11 اور دوسری اننگز میں بنا کوئی رن بنائے آوٹ ہوئے۔

مصباح الحق گذشتہ سات اننگز میں کوئی بھی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انھوں نے اپنی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ ’اب مجھے یہ سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہے کہ اگر میں بطور بلے باز ٹیم کے لیے کچھ نہیں کر سکتا تو کسی اور کو ٹیم میں کھلانا بہتر ہے۔‘

یاد رہے کہ رواں سال آئی سی سی کی جانب سے 42 سالہ مصباح الحق کو اپنی ٹیم کو کھیل کو اس کے روح کے مطابق کھیلنے کے لیے متاثر کرنے اور اپنے ملک میں بغیر کوئی ٹیسٹ میچ کھیلے عالمی رینکنگ میں نمبر چار سے پہلی پوزیشن پر پہنچانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میلبرن ٹیسٹ ہارنے کے ساتھ ساتھ پاکستان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی ہار گیا ہے

مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ میچز جیتنے والے کپتان بھی ہیں۔

مصباح کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ان کے بقول ’تیسرے ٹیسٹ سے قبل یا سیریز کے بعد میں اس بارے میں سوچوں گا، کیونکہ بنا کچھ کیے ٹیم کے ساتھ رہنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں تو صرف انڈیا کے خلاف سریز کا انتظار کر رہا تھا ورنہ میرا تو کافی پہلے ریٹائر ہونے کا ارادہ تھا۔‘

واضح رہے کہ مصباح الحق پاکستان کی جانب سے 50 سے زائد ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر بھی ہیں۔

مصباح الحق پاکستان کی جانب سے 71 ٹیسٹ میچوں میں 46 عشاریہ ایک سات کی اوسط سے 124 اننگز میں 4895 رنز بنا چکے ہیں جس میں دس سنچریاں اور 36 نصف سنچریاں شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں