بی سی سی آئی کے خلاف قانونی کارروائی زیرِ غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہریار خان نے کہا کہ مفاہمت کی اس یادداشت پر دستخط آئی سی سی کی موجودگی میں ہوئے تھے لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے بھی کہے گا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی حمایت کرے

پاکستان کرکٹ بورڈ متوقع میچز نہ کھیلنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے جمعے کے روز کراچی میں گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ آٹھ سال میں چھ سیریز کھیلنے کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے لیکن اس نے اس یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اب تک دو سیریز بھی نہیں کھیلی ہیں۔

لہذا اب پاکستان کرکٹ بورڈ قانونی کیس تیار کر رہا ہے جس میں پہلے مرحلے پر بھارتی کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کرے۔

شہریار خان نے کہا کہ مفاہمت کی اس یادداشت پر دستخط آئی سی سی کی موجودگی میں ہوئے تھے لہٰذا پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی سے بھی کہے گا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی حمایت کرے اور اس کا مالی نقصان پورا کرے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بگ تھری منصوبے پر دستخط اسی شرط پر کیے تھے کہ بھارت پاکستان سے کھیلے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیرمین نجم سیٹھی نے اس بارے میں بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ماضی میں بی سی سی آئی سے یہ پوچھتا تھا کہ اگر بھارتی حکومت اسے پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دے رہی تو وہ اس بات کا کوئی تحریری ثبوت دے لیکن بی سی سی آئی اس کا کوئی جواب نہیں دیتا تھا لیکن اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور ہم آئی سی سی کے گذشتہ اجلاس میں اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کر چکے ہیں۔

واضح رہے کہ آئی سی سی کے گذشتہ اجلاس میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ خواتین میچز نہ کھیلنے پر اس کے تمام پوائنٹس پاکستان کو دینے کا فیصلہ ہوا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسی اجلاس میں یہ بات بھی واضح کردی تھی کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اگلے سال چیمپینز ٹرافی کا میچ نہیں کھیلتا تو اس کے پوائنٹس بھی پاکستان کو ملنے چاہئیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اس کیس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ملین ڈالرز بھی خرچ کرنے پڑے تو وہ کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر بھارتی کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوئی جواب نہ دیا تو پھر یہ دیکھا جائے کہ یہ مقدمہ کہاں دائر کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں