پاکستانی کرکٹ کے اولین کھلاڑیوں میں سے ایک امتیاز احمد انتقال کر گئے

امتیاز احمد تصویر کے کاپی رائٹ L. Blandford
Image caption ان کے فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل 1944 میں ہوا تھا اور تقسیم ہند سے قبل وہ رانجی ٹرافی میں نارتھ انڈیا کی نمائندگی کرتے رہے تھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ملک کی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن امتیاز احمد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

امتیاز احمد کی عمر 88 سال برس تھی۔

سنیچر کی صبح امتیاز احمد کے بیٹے ضیغم امتیاز نے اپنے والد کے انتقال کے بارے میں سوشل میڈیا پر پیغام نشر کیا۔

امیتاز احمد نے سنہ 1952 سے سنہ 1962 کے درمیان پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 41 ٹیسٹ میچ کھیل کر 2070 رنز بنائے۔ وہ وکٹ کیپیر بیٹسمین کی حیثیت سے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں ڈبل سنچری سکور کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے، جو انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف سنہ 1955 میں لاہور میں سکور کی تھی۔

امتیاز احمد کی پیدائش پانچ جنوری 1928 کو لاہور میں ہوئی تھی اور انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی تھی اور پیشہ ورانہ طور پر کرکٹ کے علاوہ پاکستان فضائیہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے تھے۔

ان کے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل 1944 میں ہوا تھا اور تقسیم ہند سے قبل وہ رانجی ٹرافی میں نارتھ انڈیا کی نمائندگی کرتے رہے تھے۔

فرسٹ کلاس کرکٹ میں انھوں نے 130 میچ کھیل کر دس ہزار سے زائد رنز بنائے اور ان کا بہترین سکور 300 رنزن ناٹ آؤٹ رہا تھا۔

تقسیم ہند کے بعد حفیظ کاردار کی قیادت میں بننے والی پاکستان کی اولین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں امتیاز احمد کو بطور بلےباز شامل کیا گیا اور سنہ 1952 میں انڈیا کا پہلا دورہ کرنے اور اولین ٹیسٹ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کھلاڑی

پاکستان کی جانب سے اولین ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم کے صرف دو کھلاڑی حیات ہیں۔

وقار حسن، عمر 84 برس

وزیر محمد،عمر 87 برس

جو کھلاڑی فوت ہو گئے ہیں ان کی تعداد گیارہ ہے

  • نذر محمد 12 جولائی 1996 میں 75 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے
  • حنیف محمد 11 اگست 2016 میں 81 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کر گئے
  • اسرار علی یکم فروری 2016 میں 88 برس کی عمر میں اوکاڑہ میں انتقال کر گئے
  • مقصود احمد چار جنوری 1999 کو راولپنڈی میں 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • حفیظ کاردار 21 اپریل 1996 کو اسلام آباد میں 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • انور حسین لاہور میں نو اکتوبر 2002 کو 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • فضل محمود 30 مئی 2005 کو 78 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے
  • خان محمد چار جولائی 2009 میں لندن میں 81 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
  • عامر الٰہی 28 دسمبر 1980 کو 72 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے
  • ذوالفقار احمد تین اکتوبر 2008 کو 81 برس کی عمر میں سی ایم ایچ ہسپتال لاہور میں انتقال کر گئے
  • محمود حسین 59 برس کی عمر میں انگلینڈ میں 25 دسمبر 1991 کو انتقال کر گئے
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1954 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم جس میں امتتاز احمد بھی شامل تھے

خیال رہے کہ پاکستان کو دورہ انڈیا میں کھیلے گئے پہلے دہلی ٹیسٹ میں شکست ہوئے تھی لیکن لکھنئو میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں انڈیا کو ایک اننگز اور 43 رنز سے شکست دی تھی۔

دورہ انڈیا میں پہلے تین ٹیسٹ میچوں میں امتیاز احمد نے بطور بیٹسمین شرکت کی تھی تاہم چینئی میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں انھوں نے وکٹوں کے پیچھے خدمات سرانجام دیں اور سنہ 1962 میں انگلینڈ کے خلاف اپنے کیریئر کے اختتام کے بطور وکٹ کیپیر بیٹسمین ہی کھیلتے رہے۔

امتیاز احمد کی کرکٹ کیریئر کا ایک اہم پہلو سنہ 1958 میں دورہ ویسٹ انڈیز کے موقع پر بارباڈوس میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔ اس ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں لیجنڈری کرکٹر حنیف محمد نے 337 رنز بنائے تھے اور ان کے ساتھ امتیاز احمد ہی نے اننگز کا آغاز کیا تھا حنیف محمد کا ساتھ دیتے ہوئے 91 کی اننگز کھیلی تھی۔

اسی طرح سنہ 1959 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا دورہ پاکستان بھی ان کے کریئر کی شہ سرخیوں میں شامل ہے۔

سپورٹس تجزیہ کار اور پی سی بی کے سابق ایڈیشنل میڈیا مینجر آصف سہیل کہتے ہیں: ’امتیاز احمد نے اس دور میں پاکستان کی ٹیم کی نمائندگی کی جب کرکٹ کے میدانوں پر انگلینڈ، آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا راج تھا۔ انھوں نے دنیا کو پاکستان کی کرکٹ ٹیم سے متعارف کروایا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Dennis Oulds
Image caption ’آج پاکستانی کرکٹ جس اونچائی پر ہے اس میں امتیاز احمد کا کردار نہایت اہم رہا ہے‘: آصف سہیل

ویسٹ انڈیز کے 1959 میں دورہ پاکستان کے بارے میں آصف سہیل کہتے ہیں کہ اس دورے کے دوران ویسٹ انڈیز فاسٹ بولر سر ویزلی ہال نے امتیاز احمد کی بیٹنگ کے بارے میں کہا تھا کہ ’مجھے اس کے بارے میں ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔‘

آصف سہیل کا امتیاز احمد کے بارے میں کہنا تھا کہ آج پاکستانی کرکٹ جس بلندی پر ہے اس میں امتیاز احمد کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان کی مردوں کی ٹیم ہی نہیں بلکہ خواتین کی ٹیم کی تربیت و رہنمائی اور اس کی کامیابیوں کا سہرہ امتیاز احمد کے سرجاتا ہے۔

امتیاز احمد پاکستان فضائیہ سے بھی 27 سال خدمات سرانجام دی تھیں اور سنہ 1966 میں انھیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا۔

وہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں چیف سلیکٹر اور دیگر عہدوں پر بھی فائز رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں