ریٹائرمنٹ کی بات مایوسی میں کہی تھی: مصباح

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption مصباح الحق نے سوموار کو پریس کانفرنس میں اپنی ٹیم اور ریٹائرمنٹ کے حوالے سے بات کی

پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے اپنی ریٹائرمنٹ کی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سڈنی میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی کپتانی کریں گے۔

خیال رہے کہ میلبرن میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ڈرامائي انداز میں شکست کے بعد ان کے بیان سے ریٹائرمنٹ کے خیال کو ہوا ملی تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے مستقبل پر غور کریں گے اور منگل کو شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل بھی ریٹائر ہو سکتے ہیں۔

لیکن پاکستان کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان مصباح الحق نے سوموار کو سڈنی میں پریس کانفرنس میں جلد ریٹائرمنٹ کی تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا۔

خیال رہے کہ مصباح اچھے فارم میں نہیں ہیں اور وہ گذشتہ چار اننگز میں مجموعی طور پر 20 رنز ہی بنا سکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میلبرن میں ایک اننگز اور 18 رنز سے ہارنے کے سبب انھوں نے مایوسی میں ایسا کہا تھا۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا: 'وہ سنہ 2016 تھا اور اب سنہ 2017 ہے۔ وہ وقت گزر چکا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا: 'آپ کو سپورٹس مین کی طرح لڑنا ہے اور یہ میرے لیے بھی اہم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption مصباح اپنی ٹیم کے ساتھ سڈنی میں دیکھے جا سکتے ہیں اور ٹیم نے گلابی کیپ پہن رکھی ہے

انھوں نے اپنی ٹیم کے بارے میں کہا: 'مجھے خوشی ہے کہ مجھے بہت اچھی فیملی دستیاب ہے۔ اور جس طرح انھوں نے میری حمایت کی ہے اس کا شکر گزار ہوں۔ سٹاف سے لے کر سارے کھلاڑیوں نے تعاون کیا ہے اور وہ آنے والے مقابلے کے لیے تیار ہیں اس لیے میں بھی تیار ہوں اور مجھے اپنا بہترین کھیل پیش کرنے کی ضرورت ہے۔'

42 سالہ مصباح نے کہا کہ انھوں نے اپنے انٹرنیشنل کریئر کو ابھی ختم کرنے کے بارے میں سوچا نہیں ہے تاہم خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اس بارے میں پاکستان واپسی پر کوئی فیصلہ کریں گے۔

مصباح نے اپنا کریئر سنہ 2001 میں شروع کیا تھا۔ وہ اب صرف ٹیسٹ میچ ہی کھیلتے ہیں اور دوسرے فارمیٹ سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔

ادھر آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ کے لیے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے لیکن مصباح نے اپنی حتمی ٹیم کا اعلان نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا: 'سڈنی روایتی طور پر مختلف رہا ہے اور فیصلہ پچ کو دیکھنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کو آسٹریلیا میں 1995 کے سڈنی ٹیسٹ کے بعد سے کوئی بھی کامیابی نہیں ملی ہے جبکہ رواں سیریز میں آسٹریلیا کو دو صفر کی سبقت حاصل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں