ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ویسٹ انڈیز اور پاکستان کے درمیان گذشتہ برس شارجہ میں ٹیسٹ سیریز کھیلی گئی تھی

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی کلیئرنس اور ویسٹ انڈیز پلیئرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو آئی پی اے) کی طرف سے اجازت مل جاتی ہے تو ویسٹ انڈیز کی ٹیم اس سال مارچ میں پاکستان کا دورہ کر سکتی ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ (ڈبلیو آئی سی بی) کے مینیجر آف کرکٹ آپریشنز رولاینڈ ہولڈر نے ای ایس پی این کرک انفو کو بتایا کہ پی سی بی کی طرف سے 'پاکستان میں دو ٹی 20 کھلنے کی دعوت دی گئی ہے۔'

'(ڈبلیو آئی پی اے) کو پی سی بی کی طرف سے ایک سکیورٹی پلان ملا ہے، جو ہم نے داخلی سکیورٹی کے مینیجر، (ڈبلیو آئی پی اے) اور آزاد انٹرنیشنل سکیورٹی فرم کو دیا ہے جسے ہم نے سکیورٹی رپورٹ کے لیے چنا ہے۔ ڈبلیو آئی پی اے اور ڈبلیو آئی سی بی کسی بھی فیصلے سے پہلے اپنے طور پر چیک کر رہے ہیں، کیونکہ کھلاڑیوں اور سٹاف کی سلامتی سب سے اہم ہے۔ اس رپورٹ کے آنے کے بعد اور ڈبلیو آئی سی بی کی طرف سے جگہوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔'

آئی سی سی کی حالیہ میٹنگ میں پاکستان ویسٹ انڈیز کو اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ پاکستان کا دورہ کرنے کے متعلق غور کرے۔ اگر ویسٹ انڈیز کی طرف سے اس کی اجازت مل جاتی ہے تو ان کی ٹیم لاہور میں 18 اور 19 مارچ کو دو ٹی 20 کھیلے گی۔ اس کے بعد ویسٹ انڈیز کی ٹیم فلوریڈا کے لیے روانہ ہو جائے گی جہاں وہ مزید دو ٹی 20 کھیلے گی۔

ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل پہلے مشہور کھلاڑی ہیں جنھوں نے پاکستان سپر لیگ میں شرکت کی تھی اور پاکستان میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان ڈیرن سیمی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سکیورٹی کلیئرنس کے بعد پاکستان جانے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ سال زمبابوے کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور تین ایک روزہ میچ کھیلے تھے۔ یہ سنہ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد کسی بھی غیر ملکی ٹیم کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔

اسی بارے میں