لڑکیوں کو ہراس سے بچانے پر اولمپک ایتھلیٹ کی تعریف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرشنا پونیا نے دولتِ مشترکہ کی کھیلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا

انڈیا کی اولمپک ایتھلیٹ کرشنا پونیا نے بنگلور میں جنسی ہراس کے حالیہ واقعات کو گھٹیا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے ایسے ہی ایک حملے سے کسی کو بچایا بھی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یکم جنوری کو راجستھان کے ضلع چھورو میں کہیں جا رہی تھیں کہ انھوں نے دیکھا کہ تین آدمی دو لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ 'میں نے ان کا پیچھا کیا اور ان میں سے ایک کو پکڑ لیا۔ بعد میں میں نے پولیس میں شکایت درج کرانے میں بھی ان لڑکیوں کی مدد کی۔'

انھوں نے کہا کہ اس واقعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عورتیں مصروف علاقوں میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

'جب میں نے یہ دیکھا کہ مصروف ریلوے کراسنگ کے سامنے اتنے لوگوں کے درمیان وہ لوگ ان لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو مجھے بہت صدمہ پہنچا اور خوف آیا۔ کسی نے اس وقت تک کچھ نہیں کیا جب تک میں اپنے گاڑی سے نکل کر ان لوگوں کا پیچھا نہیں کیا۔'

'حادثے کے بعد لڑکیاں صدمے میں تھیں اور کپکپا رہی تھیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'وہ لڑکیاں تو شکایت درج بھی نہیں کروانا چاہتی تھیں کیونکہ ان کو خوف تھا کہ اگر معاملہ عام ہو گیا تو ان کے گھر والے ان کا باہر نکلنا بند کر دیں گے۔'

تاہم ان میں سے ایک خاندان نے شکایت درج کروانے کا فیصلہ کیا۔

تاہم انڈیا میں ٹوئٹر استعمال کرنے والے مس پونیا کے 'مردوں کے سامنے ڈٹ جانے' کے عمل کی بہت تعریف کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر یوزر مادھو گوپالن نے لکھا ہے کہ 'کیسی متاثر کن بات ہے: بہادری دکھانے کے ایک عمل میں اولمپیئن کرشنا پونیا نے لڑکیوں کو ہراس ہونے سے بچایا ہے۔'

مس پونیا نے کہا کہ ایسے واقعات اس لیے ہوتے ہیں کیوں کہ کچھ لوگ عورتوں کو کم تر سمجھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں