پاکستان کا ہدف 465 رنز مگر 55 پر ایک وکٹ

یونس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آسٹریلیا نے پاکستان کو سڈنی ٹیسٹ جیتنے کےلیے 465 رنز کا ہدف دیا ہے، جس کے جواب میں پاکستان نے چوتھے دن کھیل کے اختتام پر اپنی دوسری اننگز میں 55 رنز بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے شرجیل خان نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کی لیکن وہ چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 40 رنز بناکر نیتھن لائن کی گیند پر وارنر کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔

٭ تفصیلی سکور کارڈ

٭ یونس کی سنچری، پاکستان اب بھی 267 رنز پیچھے

پاکستان کی یہ پہلی وکٹ 51 رنز پر گری جو اس سیریز میں اس کی سب سے اچھی اوپننگ شراکت ہے۔

کھیل کے اختتام پر اظہرعلی 11 اور نائٹ واچ مین یاسر شاہ تین رنز پرناٹ آؤٹ تھے۔

پاکستان کو میچ کے آخری دن جیت کے لیے مزید 410 رنز درکار ہیں۔

آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز 241 رنز2 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی تھی۔ چوتھے دن کا پہلا سیشن گیلی آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے مکمل طور پر ضائع ہو گیا۔

پاکستان نے اپنی پہلی اننگز 271 رنز آؤٹ کھلاڑی آؤٹ پر شروع کی اور آخری دو وکٹیں سکور میں 44 رنز کا اضافہ کر سکیں جن میں سے 39 رنز یونس خان نے اسکور کیے۔

وہ تین چھکوں اور 17 چوکوں کی مدد سے 175 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

یاسر شاہ نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ان کا ساتھ دیا اور دس رنز بنا کر ہیزل وڈ کی گیند پر سمتھ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

ہیزل وڈ نے عمران خان کو صفر پر بولڈ کر کے اننگز میں اپنی چوتھی وکٹ حاصل کی اور پاکستانی اننگز 315 رنز پر تمام کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی بولروں کے پاس ڈیوڈ وارنر کے برق رفتار بیٹنگ کا جواب نہیں تھا

آسٹریلیا کو پاکستان پر 223 رنز کی برتری حاصل ہو گئی لیکن سمتھ نے فالوآن نہیں کرایا۔

پہلی اننگز میں کھانے کے وقفے سے قبل سنچری بنانے والے ڈیوڈ وارنر نے دوسری اننگز میں بھی انتہائی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی دوسری تیز ترین نصف سنچری صرف 23گیندوں پر سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے مکمل کر ڈالی۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین نصف سنچری بنانے کا اعزاز مصباح الحق کو حاصل ہے جنھوں نے2014 میں آسٹریلیا کے خلاف ابوظہبی ٹیسٹ میں 21 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی تھی۔

محمد عامر سائیڈ سٹرین کی وجہ سے ان فٹ ہو کر میدان سے باہر رہے اور عمران خان کے ساتھ نئی گیند سے بولنگ کی ابتدا کرنے والے یاسر شاہ ڈیوڈ وارنر کے سامنے تختۂ مشق بن گئے۔

وارنر نے ان کے دوسرے ہی اوور میں دو چھکے اور دو چوکے لگائے اور پھر عمران خان کے ایک اوور میں لگاتار چار چوکے لگائے۔

وہ صرف 27 گیندوں پر تین چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 55 رنز بنا کر جب وہاب ریاض کی گیند پر بولڈ ہوئے تو آسٹریلیا کا سکور 71 رنز تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستانی کپتان مصباح الحق اس میچ میں زبردست دباؤ کا شکار نظر آئے

دوبار گیند ہیلمٹ پر لگنے کا اثر میٹ رینشا کو اس ٹیسٹ میچ سے باہر کر چکا ہے لہٰذا ان کی جگہ اننگز کا آغاز کرنے والے عثمان خواجہ نے پہلی اننگز کی ناکامی کی کسر اس بار نکال دی اور وہ 79 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

وکٹ کیپر سرفراز احمد نے 21 کے انفرادی اسکور پر یاسر شاہ کی گیند پر انھیں سٹمپڈ کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔

کپتان سمتھ آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 59 رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

سمتھ اورعثمان خواجہ نے دوسری وکٹ کی شراکت میں103 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد عثمان خواجہ اور پیٹر ہینڈس کوم کی شراکت میں بھی 67 رنز بنے۔

ہینڈس کوم 40 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

اسی بارے میں