ویسٹ انڈیز کا اپنی سکیورٹی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ

  • 10 جنوری 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ وہ پاکستان کے دورے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اپنی سکیورٹی ٹیم کی رپورٹ پر انحصار کرے گا۔

واضح رہے کہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بین الاقوامی کرکٹرز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سپر لیگ کے فائنل کے لیے لاہور جانے سے گریز کریں کیونکہ پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال اب بھی بہتر نہیں ہے۔

ٹرینیڈاڈ گارجین کے مطابق ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کرکٹ بورڈ کے صدر عظیم بصارت کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ٹیم پاکستان بھیجے گا تاکہ وہ صورتحال کا جائزہ لے سکے۔

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز کو ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے لیے دعوت دے رکھی ہے۔

عظیم بصارت نے فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن (فیکا) کی رپورٹ کے تناظر میں کہا کہ یہ معاملہ بہت حساس ہے اسی لیے ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ اپنی سکیورٹی ٹیم پاکستان بھیج رہا ہے۔

’اس سکیورٹی ٹیم کی قیادت مینیجر آپریشن رولینڈ ہولڈر اور سکیورٹی کے سربراہ پال سلوو کر رہے ہیں اور فیکا کی تشویش کے باوجود ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ اپنے سکیورٹی ماہرین کی رپورٹ پر انحصار کرے گا؟‘

عظیم بصارت کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں سیریز کے امکانات ختم نہیں ہوئے ہیں اور اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کی سکیورٹی کی ضمانت دے دیتا ہے تو یہ میچز ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں