’جب پہلوان لڑکیوں نے میرے لیے روٹیاں پکائیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فلم دنگل کی اصل کردار پہلوان لڑکیوں سے ملاقات

اگر آپ کو کشتی یا فلموں کا شوق ہے تو آپ نے گیتا اور ببیتا کا نام تو ضرور سنا ہو گا۔ ان بہنوں نے 2010 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں دو تمغے جیت کر خواتین کی کشتی میں انڈیا کا پرچم بلند کیا تھا۔

وہ ایک سنگ میل تھا، اور اب ان کی زندگی پر بننے والی عامر خان کی فلم 'دنگل' بھی کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ تین ہفتوں میں اس فلم نے 345 کروڑ روپے کما کر بالی وڈ کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

میں اکتوبر سنہ 2010 میں ان سے ملنے ان کے گھر گیا تھا۔ ہریانہ کا ایک خوابیدہ سا گاؤں جہاں ایک بڑے سے گھر کے دالان میں ان کے والد مہاویر سنگھ پھوگاٹ کھانا کھا رہے تھے۔

ان کی خوراک پہلوانوں جیسی ہی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کھانے کے لیے پوچھا تو میں انکار نہیں کر سکا، بھوک کافی لگ رہی تھی، میں نے کہا کہ 'ایک روٹی کھالوں گا جی!'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلم دنگل پھوگاٹ خاندان پر مبنی ہے جس میں عامر خان نے اہم کردار ادا کیا ہے

ایک روٹی؟ انھوں نے مجھے نظروں سے ہی تولا اور پھر اپنی کڑک ہریانوی آواز میں حکم صادر کیا: 'مہمانوں کے لیے کھانا بناؤ!'

کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ کیا میں گیتا ببیتا سے مل سکتا ہوں؟ انھوں نے اشارے سے کہا کہ گھر میں اندر چلے جاؤ۔

میں اندر داخل ہوا تو ہوش اڑ گئے۔ ببیتا زمین پر بیٹھ کر سخت ہاتھوں سے میرے لیے آٹا گوندھ رہی تھیں، گیتا باورچی خانے میں سبزی بنانے میں مصروف تھیں۔

میرے پاس ایک چھوٹا سا ویڈیو کیمرا تھا، جس سے میں نےفوراً ریکارڈنگ شروع کر دی۔ ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ دولتِ مشترکہ چیمپیئن اتنے خلوص اور انکسار کے ساتھ آپ کے لیے کھانا بنا رہے ہوں۔

ببیتا نے مجھ سے پوچھا: 'کتنے لوگوں کا کھانا بنانا ہے؟' میں نے کہا کہ بس ایک، اور میں صرف دو روٹیاں کھاؤں گا (اس وقت تک بھوک بڑھ چکی تھی)۔

ببیتا نے ہنستے ہوئے کہا: 'روٹیاں چاہے کتنی بھی کھا لینا!'

مجھے نہیں معلوم کہ بہت دولت اور بے پناہ شہرت کمانے کے بعد اب ان کی زندگی کس طرح بدلی ہے، لیکن پہلوانی میں ان کی شاندار کامیابی کے بعد اسی زمانے میں بہت سے لوگوں کی سوچ ضرور بدلنے لگی تھی۔

گیتا نے مجھے بتایا تھا کہ لوگ پہلے ان کے والد کا مذاق اڑاتے تھے لیکن کچھ ہی دن بعد تربیت کے لیے اپنی بیٹیوں کو ان کے پاس بھیجنے لگے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلم میں گیتا اور ببیتا کا کردار ادا کرنے والی اداکاراؤں کی خوب تعریف ہو رہی ہے

ان لڑکیوں کو بچپن میں بہت مشقت کرنا پڑی تھی۔ مہاویر سنگھ بہت سخت باپ واقع ہوئے تھے۔ ان کا ایک خواب تھا جو کسی بھی قیمت پر پورا ہونا تھا۔ (اپنی خوشی سے پہلوانی کرنے کی بات تو بعد میں رہی) 'میں ان سے کروا رہا ہوں، اور میں یہ کر کے دکھاؤں گا۔'

میں نے گیتا سے پوچھا کہ کبھی تو دل کرتا ہو گا کہ سب چھوڑ دیں؟ ان کا سادہ سا جواب تھا کہ 'کہیں اور ہوتے تو شاید چھوڑ کر آ جاتے لیکن ہماری تربیت تو اپنے ہی گھر میں ہو رہی تھی، چھوڑ کر کہاں جاتے؟'

دولتِ مشترکہ کھیلوں میں گیتا نے طلائی تمغہ جیتا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ بچپن میں ان کے والد نے زبردستی ان سے پہلوانی کرائی تھی لیکن کیا وہ اپنے بچوں کو اپنے کریئر کا انتخاب کرنے کی آزادی دیں گی؟

گیتا نے ہنستے ہوئے کہا کہ 'شادی کے بعد بچے ہوں گے تو کشتی ضرور کریں گے۔ چاہے لڑکا ہو یا لڑکی، کشتی میں تو ضرور ڈالیں گے ہم اس کو۔‘

اب گیتا نے ایک پہلوان سے شادی کر لی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں