’پی ایس ایل سے کاروبار پر فرق تو پڑتا ہے‘

جرسی
Image caption پاکستان سپر لیگ کے شروع ہوتے ہی کرکٹ کے کھیل سے جڑے سامان کی فروخت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے

متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز رواں سال نو فروری سے ہونے والا ہے۔

دبئی میں افتتاحی تقریب اور پھر دفاعی چیمپیئن اسلام آباد اور پشاور زلمی کی ٹیموں کے درمیان میچ سے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز ہو گا۔

اس لیگ کا پہلا ایڈیشن نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ اس میں شریک فرینچائزز کے لیے بھی منافع بخش رہا تھا اور وہ پرامید ہیں کہ اس مرتبہ منافع کی شرح گذشتہ برس سے زیادہ ہی ہوگی۔

دنیا میں کھیلی جانے والی دیگر ٹی 20 لیگز کی طرح پی ایس ایل بھی اپنے ہمراہ بہت سے ایسے افراد اور اداروں کے لیے کاروبار کے نئے مواقع لاتی ہے جو براہِ راست اس لیگ سے وابستہ نہیں۔

ان میں سپورٹس کی مصنوعات تیار کرنے والوں سے لے کر بیرونِ ملک منعقد ہونے کی وجہ سے فضائی سفر اور وہاں رہائشی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں تک سب شامل ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ یہ لیگ ایسے افراد کے لیے کتنی فائدہ مند ثابت ہوئی ہے؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں کھیلوں کا سامان بنانے والے ایک ادارے کے سربراہ بشارت علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے شروع ہوتے ہی کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دبئی میں افتتاحی تقریب اور پھر دفاعی چیمپیئن اسلام آباد اور پشاور زلمی کی ٹیموں کے درمیان میچ سے پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا باقاعدہ آغاز ہو گا

بشارت علی نے بتایا کہ ’مقامی سطح پر ٹیموں کی شرٹس، بلوں پر لگنے والے سٹیکرز، ٹوپیاں وغیرہ جیسی چیزوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘

بشارت علی نے بتایا کہ پی ایس ایل کے دوسرے سیزن کے آغاز سے قبل ہی ملک بھر سے انھیں اب تک 15 سے 25 ہزار کے درمیان مختلف ٹیموں کی وردیوں کے آرڈر مل چکے ہیں جن میں ٹورنامنٹ کے آغاز کے بعد مزید اضافہ ہونے کی امید ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں کھیلوں کا سامان فروخت کرنے والے ایک دوکاندار افضال نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ کے شروع ہوتے ہی کرکٹ کے کھیل سے جڑے سامان کی فروخت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔

افضال نے بتایا کہ’سپر لیگ اور پاکستان میں کرکٹ کا سیزن ایک ساتھ ہی شروع ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں میں جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ پاکستان سپر لیگ شروع ہونے سے ایک ماہ قبل ہی تقریباً تمام ٹیموں کی شرٹس کی ڈیمانڈ زیادہ ہو جاتی ہے۔

افضال کے مطابق: ’گذشتہ سال پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی دنوں میں تو لاہور قلندر اور کراچی کنگز کی شرٹس کی ڈیمانڈ کافی زیادہ تھی لیکن جیسے جیسے اسلام آباد یونائیٹڈ کی کارکردگی بہتر ہوتی گئی ان کی شرٹس فروخت میں اچانک اضافہ ہو گیا۔‘

پاکستان سپر لیگ کے ایک مداح سید اطہر علی نے بتایا کہ ’ہم پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں اس لیے جیسے ہی ٹورنامنٹ شروع ہوتا ہے ہم اس کی وردیاں، پشاور زلمی کے لوگو والے کپ وغیر خرید لیتے ہیں۔‘

سید اطہر علی کے مطابق’جس دن پشاور زلمی کا میچ ہوتا ہے ہم سب دوست ایک ساتھ میچ دیکھتے ہیں اور اس کے لیے بھرپور تیاری کی جاتی ہے۔‘

کرکٹ کے سامان وغیرہ کی خرید و فروخت کے علاوہ ایک طبقہ اور بھی ہے جو پاکستان سپر لیگ کے متحدہ عرب امارات میں ہونے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

یہ طبقہ ٹریول ایجنٹس کا ہے جو ویسے تو سارا سال ہی مختلف پیکجز بناتے رہتے ہیں لیکن اب وہ بھی پاکستان سپر لیگ کے لیے خصوصی پیکجز بناتے ہیں تاکہ کچھ مناقع کمایا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 'جس دن پشاور زلمی کا میچ ہوتا ہے ہم سب دوست ایک ساتھ میچ دیکھتے ہیں اور اس کے لیے بھرپور تیاری کی جاتی ہے'

اس حوالے سے کراچی میں ٹریولنگ کے کاروبار سے منسلک نور بٹ نے بتایا کہ کہ ’پاکستان سپر لیگ کے دوران دو طرح کے لوگ سفر کرتے ہیں، ایک تو وہ طبقہ ہے جو اپنی چھٹیاں گزارنے یو اے ای جاتا ہے دوسرا طبقہ خاص طور پر کرکٹ کے شائقین کا ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق: ’یو اے ای میں چھٹیاں گزارنے کے لیے جانے والے افراد اب پاکستان سپر لیگ کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ایک تیر سے دو شکار ہو سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان پر لیگ سے کاروبار پر فرق تو پڑتا ہے لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ بہت زیادہ فرق پڑتا ہے۔‘

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کا آغاز نو فروری سے دبئی میں ہو رہا ہے اور اس کے لیے پی ایس ایل انتظامیہ نے ٹکٹوں کی فروخت شروع کر دی ہے۔

ٹکٹ کی قیمت 30 درہم سے شروع ہو کر 800 درہم تک جاتی ہیں۔اب تک تو پاکستان سپر لیگ انتظامیہ کے بقول ٹورنامنٹ کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں