’مگر ہمیں کپتان بدلنا ہے‘

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مچل سٹارک نے مڈل سٹمپ پہ ایک نہایت خوبصورت یارکر پھینکا، وہاب ریاض نے پیچھے ہٹ کر کور میں ڈرائیو کرنے کی کوشش کی لیکن جب ان کا بلا لائن میں آیا، بیلز جگمگا رہی تھیں۔

آسٹریلیا جیت گیا اور پاکستان کا تین ماہ پہ محیط ایک بھیانک خواب ختم ہوا۔

جہاں اس دورے میں نمبرون ٹیسٹ ٹیم نے حیران کن حد تک بری پرفارمنس سے ہمیں متحیر کیے رکھا وہیں آٹھویں نمبر کی ون ڈے ٹیم نے کچھ زیادہ مایوس نہیں کیا۔ مثبت پسندی سے دیکھیے تو ٹیسٹ ٹیم مسلسل دو سیریز میں کلین سویپ ہوئی لیکن ون ڈے ٹیم نے پھر بھی ایک میچ جیت ہی لیا اور پاکستان کو مسلسل تیسری بار وائٹ واش ہونے سے بچا لیا۔

٭ مکی آرتھر پاکستانی کھلاڑیوں پر برس پڑے

٭ ایڈیلیڈ کا میچ اور ون ڈے سیریز آسٹریلیا کے نام

اگر دوسرے نمبر کی ٹیم پانچویں چھٹے نمبر کی ٹیم سے کلین سویپ ہو جائے تو واقعی تشویش کی بات ہے لیکن اگر آٹھویں نمبر کی ٹیم نمبرون ٹیم سے ہار جائے تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

لیکن پاکستان کرکٹ شائقین اور مبصرین کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ہر کوئی اپنی ٹیم کو فاتح دیکھنا چاہتا ہے مگر جہاں اس ون ڈے ٹیم کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ نوے کی دہائی سی کرکٹ کھیل رہے ہیں، وہیں شائقین کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ بھی کہیں نوے کی دہائی میں تو نہیں جی رہے؟

اوپننگ کو ہی لیجیے۔ شرجیل خان سے پہلے پاکستان نے جتنے بھی اوپنر آزمائے، ان سب کا سٹرائیک ریٹ دیکھیے اور ان کے ہم عصر دیگر ٹیموں کے اوپنرز کے سٹرائیک ریٹس سے موازنہ کیجیے۔ جس دور میں دنیا کی ہر ٹیم پہلے پاور پلے میں اننگز کا ٹیمپو سیٹ کرنے کا سوچتی ہے وہاں پاکستانی اوپنرز ہمیشہ اپنی وکٹیں بچانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں مگر نہ تو وکٹیں بچتی ہیں نہ ہی سکور ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا آپ کو معلوم ہے کہ احمد شہزاد کا ون ڈے میں سٹرائیک ریٹ مصباح سے کم ہے؟ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں کہ جس ٹیم کو سعید انور کے بعد 14 سال میں ایک اچھا اوپنر نہیں مل سکا، وہ یہ سوچتی ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی ٹیموں سے مقابلہ کر پائے گی۔

یاد کیجیے آخری بار ایسا کب ہوا تھا کہ پاکستان نے آخری دس اوورز میں سو رنز کیے ہوں؟ ایک عبدالرزاق وہ آل راونڈر تھے جو آخری دو اوورز میں 50 رنز بھی کر لیتے تھے اور ایک آج یہ عالم ہے کہ ایسے معجزات کے لیے رضوان اور عمر اکمل کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔

ایک وہ دور تھا کہ پاکستانی کرکٹ شائقین انڈیا کی بولنگ کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور آج یہ عالم ہے کہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں بولنگ کی بدترین کارکردگی کا ریکارڈ پاکستان کے نام ہو چکا ہے۔ یقین جانیے کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ افغانستان کی فاسٹ بولنگ بھی پاکستان سے بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ون ڈے کی تاریخ میں آج تک صرف دس بار ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی بولر کو اننگز میں سو سے زائد رنز پڑے ہوں اور ان دس میں سے دو بولر وہ ہیں جو پاکستان کے موجودہ بولنگ اٹیک کا حصہ ہیں۔

فیلڈنگ میں تو خیر کبھی بھی پاکستان نے کوئی بڑی مثالیں پیدا نہیں کی لیکن جتنی بری فیلڈنگ اس ٹیم نے چوتھے ون ڈے میں کی، اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ چار اہم ترین کیچز ڈراپ کیے، بے شمار آسان سنگلز فراہم کیے اور اوور تھرو تو سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی۔ فٹنس کے عالمی معیارات کو دیکھا جائے تو آدھی ٹیم ان فٹ نظر آتی ہے۔

یہ سب مسائل کوئی ایک دن میں پیدا نہیں ہوئے۔ پچھلے دس سال سے پاکستان کم و بیش انہی مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ اس بیچ کتنے کپتان آئے اور گئے، کتنے کوچز اپنا اپنا وژن لائے اور کتنے چیئرمین بدلے مگر یہ مسائل جوں کے توں رہے۔

اور آج یہ وہ ٹیم ہے جس کے پاس نہ تو کوئی ورلڈ کلاس اوپنر ہے، نہ کوئی ایسا آل راؤنڈر ہے جو بیٹنگ میں ڈیپتھ دے سکے اور نہ ہی کوئی ایسا بولر ہے جو کسی بھی بیٹنگ لائن کے لیے پریشان کن ہو۔

لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ میڈیائی بزرجمہروں اور بورڈ حکام کا ماننا ہے کہ ایک کپتان بدل دینے سے سارے مسئلے چٹکی میں حل ہو جائیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں