پی سی بی کا ’امتیاز احمد سپرٹ آف کرکٹ ٹرافی‘ کا اعلان

امتیاز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قیام پاکستان کے بعد حفیظ کاردار کی قیادت میں بننے والی پاکستان کی اولین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں امتیاز احمد کو بطور بلےباز شامل کیا گیا تھا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے لیجنڈ کرکٹر امتیاز احمد کی پاکستانی کرکٹ کے لیے خدمات کے اعتراف میں ان کے نام سے ’دی امتیاز احمد سپرٹ آف کرکٹ ٹرافی‘ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

منگل کو پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ پیغام کے مطابق یہ ٹرافی ہر سال اس کھلاڑی، آفیشل یا ٹیم کو دی جائے گی جو کرکٹ کے کھیل میں بھرپور جذبے کا مظاہرہ کرتے نمایاں کارنامہ سرنجام دیں گے۔

اس سالانہ ٹرافی کا حقدار بورڈ آف گورنرز کے رکن فروفیسر اعجاز فاروقی کی سربراقی میں قائم کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا جس میں پاکستانی امپائر احسن رضا اور میچ ریفری محمد انیس بھی شامل ہوں گے۔

امتیاز احمد ٹرافی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر چیئرمین شہریار خان ہر سال ایک لاکھ چیک کے ساتھ پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ملک کی پہلی کرکٹ ٹیم کے رکن امتیاز احمد کا 31 دسمبر 2016 کو 88 سال برس کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔

امیتاز احمد نے سنہ 1952 سے سنہ 1962 کے درمیان پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 41 ٹیسٹ میچ کھیل کر 2070 رنز بنائے تھے۔ وہ وکٹ کیپیر بیٹسمین کی حیثیت سے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں ڈبل سنچری سکور کرنے والے پہلے کھلاڑی تھے، جو انھوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف سنہ 1955 میں لاہور میں سکور کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ٹرافی ہر سال اس کھلاڑی، آفیشل یا ٹیم کو دی جائے گی جو کرکٹ کے کھیل میں بھرپور جذبے کا مظاہرہ کرتے نمایاں کارنامہ سرنجام دیں گے

امتیاز احمد کی پیدائش پانچ جنوری 1928 کو لاہور میں ہوئی تھی اور انھوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ کالج لاہور سے حاصل کی تھی اور پیشہ ورانہ طور پر کرکٹ کے علاوہ پاکستان فضائیہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے تھے۔

ان کے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل 1944 میں ہوا تھا اور تقسیم ہند سے قبل وہ رانجی ٹرافی میں نارتھ انڈیا کی نمائندگی کرتے رہے تھے۔

قیام پاکستان کے بعد حفیظ کاردار کی قیادت میں بننے والی پاکستان کی اولین ٹیسٹ کرکٹ ٹیم میں امتیاز احمد کو بطور بلےباز شامل کیا گیا اور سنہ 1952 میں انڈیا کا پہلا دورہ کرنے اور اولین ٹیسٹ میں فتح حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں