پاکستان سپر لیگ، کس ٹیم میں کتنا دم؟

تصویر کے کاپی رائٹ PSL

پاکستان سپر لیگ کے دوسرے سیزن کا آغاز جمعرات سے دبئی میں ہو رہا ہے۔ اس لیگ میں پہلے سیزن کی طرح پاکستانی اور غیرملکی کھلاڑی شریک ہیں تاہم اس مرتبہ تین غیر ملکی کھلاڑیوں ڈیرن سیمی، برینڈن میککلم اور کمارا سنگاکارا کو اپنی ٹیموں کی کپتانی بھی سونپی گئی ہے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

اسلام آباد یونائیٹڈ پاکستان سپر لیگ کی دفاعی چیمپین ٹیم ہے۔

یونائیٹڈ کے مالکان نے اس سال انہی کھلاڑیوں پراعتماد ظاہر کیا ہے جنھوں نے گذشتہ سال فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا البتہ انھیں ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل کی کمی شدت سے محسوس ہو گی جن پر اینٹی ڈوپنگ ٹریبیونل نے ایک سالہ پابندی عائد کردی ہے۔

آندرے رسل پہلی پاکستان سپر لیگ میں سب سے زیادہ 16 وکٹیں حاصل کرنے والے بولر تھے۔ ان کی جگہ انگلینڈ کے فاسٹ بولر سٹیون فن کو سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD UNITED FACEBOOK

اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان مصباح الحق ہیں جو اگرچہ بین الاقوامی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ کی باریکیوں کو سمجھتے ہوئے اس وقت بھی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کسی بھی مضبوط بولنگ پر حاوی ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد کی بیٹنگ لائن میں مصباح الحق کے علاوہ شرجیل خان، شین واٹسن، بریڈ ہیڈن، ڈوین سمتھ، سیم بلنگز اور خالد لطیف جیسے جارحانہ بیٹسمین موجود ہیں۔

یونائیٹڈ کی بولنگ لائن محمد سمیع سیمیوئل بدری، عمران خالد اور محمد عرفان پر مشتمل ہے۔

آف سپنر سعید اجمل انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی امیدیں لیے اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل ہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

تصویر کے کاپی رائٹ QUETTA GLADIATORS FACEBOOK

سرفراز احمد کی قیادت میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو کیون پیٹرسن، لیوک رائٹ، احمد شہزاد کی خدمات حاصل ہیں۔

گذشتہ سال کوئٹہ کی طرف سے احمد شہزاد دو نصف سنچریوں کی مدد سے سب سے زیادہ 290 رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن کیون پیٹرسن سمیت دیگر بیٹسمین بجھے بجھے سے رہے تھے اور کوئی بھی بیٹسمین ایک سے زائد نصف سنچری سکور نہیں کرسکا تھا۔

محمد نواز بولنگ میں 13 وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے تھے۔ اس بار بھی وہ عمرگل، انور علی اور باصلاحیت میر حمزہ کے ساتھ ٹیم کا حصہ ہیں۔

کوئٹہ نے کارلوس بریتھ ویٹ کی جگہ معین علی کو ٹیم میں شامل کیا لیکن انھوں نے عمرے کی ادائیگی کی وجہ سے معذرت کرلی جس کے بعد بریڈ ہوج کو ٹیم میں شامل کیا گیا لیکن انھوں نے بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر کھیلنے سے معذرت کرلی اور اب کوئٹہ نے بنگلہ دیشی آل راؤنڈر محمود اللہ کو ٹیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا کے تھسارا پریرا بھی ٹیم میں شامل ہیں اور اکتوبر کی ڈرافٹنگ میں شامل نہ کیے جانے والے نیتھن مک کلم کو بھی دوبارہ ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔

افغانستان کے محمد نبی افغانستان اور زمبابوے کی سیریز کی وجہ سے اس بار سپر لیگ میں شامل نہیں ہیں۔

پشاور زلمی

تصویر کے کاپی رائٹ PESHAWAR ZALMI FACEBOOK

شاہد آفریدی اگرچہ اب انٹرنیشنل کرکٹ کا حصہ نہیں رہے لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان سپر لیگ میں شائقین کی بھرپور توجہ کا مرکز ہیں۔

پشاور زلمی کو شکیب الحسن، الیکس ہیلز اور محمد شہزاد کی خدمات حاصل نہیں ہیں۔

انگلینڈ کے ون ڈے کپتان اوئن مورگن اور بنگلہ دیش کے تمیم اقبال بھی پورے ٹورنامنٹ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

پشاور زلمی نے اس کمی کو مارلن سیمیولز آندرے فلیچر اور تلکارتنے دلشن سے پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔

بولنگ میں حسن علی کا ٹیلنٹ جو گذشتہ سال اسی پاکستان سپر لیگ سے سامنے آیا تھا پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دورے کر کے کافی تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔

گذشتہ ٹورنامنٹ میں 15 وکٹیں حاصل کرنے والے وہاب ریاض اور لیفٹ آرم سپنر محمد اصغر سے بھی پشاور زلمی بڑی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔

کراچی کنگز

تصویر کے کاپی رائٹ KARACHI KINGS FACEBOOK

کراچی کنگز کی قیادت اس بار سنگاکارا کے سپرد کی گئی ہے جو گذشتہ سال کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے چند میچز کھیلے تھے۔

ان کے علاوہ لاہور قلندر کی طرف سے کھیلنے والے کرس گیل بھی کراچی کنگز میں شامل ہیں۔

بابر اعظم کا ٹیلنٹ بھی کراچی کے پاس ہوگا۔

شعیب ملک اور روی بوپارا کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کی امیدیں بھی کراچی نے قائم کر رکھی ہیں۔

بولنگ میں محمد عامر، عماد وسیم اور سہیل خان فرنٹ لائن بولرز کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔

لاہور قلندر

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE QALANDARS FACEBOOK

گذشتہ سال صرف دو میچ جیت کر پانچ ٹیموں میں سب سے آخری نمبر پر آنے والی لاہور قلندر کی ٹیم نے اس بار ٹیسٹ کرکٹ کی تیز ترین سنچری بنانے والے برینڈن میک کیلم کو اپنے سکواڈ میں شامل کیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ اظہر علی کی جگہ انھیں ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے۔

لاہور قلندر گذشتہ سال سب سے زیادہ 335 رنز بنانے والے عمر اکمل اور جیسن روئے کی مدد سے اس بار قسمت بدلنے کی کوشش کرے گی۔

بولنگ گذشتہ سال لاہور قلندر کا سب سے بڑا مسئلہ رہی تھی اس بار اس نے سنیل نارائن، گرانٹ ایلیٹ اور سہیل تنویر کو شامل کیا ہے۔

ایلیٹ گذشتہ سال کوئٹہ کی طرف سے کھیلتے ہوئے 11 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں