سپر لیگ کے دوران ’بک میکرز سے رابطہ‘، شرجیل خان اور خالد لطیف معطل

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شرجیل خان اور خالد لطیف اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل تھے

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے بیٹسمین شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کر دیا ہے اور ان دونوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔

ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ان کے رابطے کے بعد عمل میں آئی ہے جو پاکستان سپر لیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

پاکستان سپر لیگ، کس ٹیم میں کتنا دم؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے یہ کارروائی پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ کے بعد کی۔

پاکستان سپر لیگ میں یہ اینٹی کرپشن کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بتایا کہ شرجیل خان اور خالد لطیف کو عبوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے تاہم دونوں کھلاڑیوں کو صفائی کا موقع دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ نے یہ اقدام ’لیگ کے تحفظ‘ کے لیے اٹھایا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے عوام ان کا ساتھ دیں گے کیونکہ یہ ’لیگ عوام کی لیگ‘ ہے۔

پی ٹی وی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ ’لالچ انسانی فطرت کا ایک حصہ ہے اور بدقسمتی سے کچھ کھلاڑی اب بھی اس کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔‘

ادھر اسلام آباد یونائٹڈ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھیں اس واقعے پر بہت افسوس ہوا ہے اور وہ ان کھلاڑیوں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

انھوں نے اپنی ٹیم کی جانب سے اس بات کی تائید کی کہ اسلام آباد یونائیٹڈ میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیئرمین نجم سیٹھی نے بتایا کہ شرجیل خان اور خالد لطیف کو صفائی کا موقع دیا جائے گا

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کا آغاز جمعرات کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ سے ہوا تھا جس میں شرجیل خان اسلام آباد یونائٹڈ کی ٹیم میں شامل تھے۔ خالد لطیف یہ میچ نہیں کھیلے تھے۔

اس سے پہلے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر اس کیس کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے لیکن یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس کھیل میں کرپشن برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان کا کہنا ہے کہ کھیل میں اس طرح کی حرکت کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں