’کیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شرجیل خان اور خالد لطیف اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ کا حصہ تھے

پاکستان سپر لیگ 2017 کے آغاز پر ہی پاکستانی کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کے مبینہ طور پر بک میکرز کے ساتھ روابط کی خبر نے سب کو ہی حیران کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

شرجیل خان اور خالد لطیف اسلام آباد یونائیٹڈ کے سکواڈ کا حصہ تھے اور ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ان کے رابطے کے بعد عمل میں آئی ہے جو پاکستان سپر لیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس خبر کے منظرعام پر آتے ہی یہ دونوں نام پاکستان میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگے۔ جو صارفین لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کے درمیان اس وقت کھیلے جانے والے میچ پر تبصرے کر رہے تھے انھوں نے بھی میچ بھول کر اس خبر پر تبصرہ شروع کر دیا۔

پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے بھی ٹوئٹر کا سہارا لیتے ہوئے کچھ یہ پیغام پہنچایا : 'پی ایس ایل میں کھیل کو خراب کرنے والے کاموں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کسی بھی بڑے یا چھوٹے کو چھوٹ نہیں۔ ہمیں پاکستان کے اس اثاثے کا تحفظ کرنا چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

شرجیل خان اور خالد لطیف کی معطلی کی خبر پر انڈین صحافی وکرنت گپتا نے ٹویٹ میں حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’پاکستانی کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف پر 'فکسنگ' کے الزامات میں پاکستان سپر لیگ میں پابندی حیران کن خبر ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ 'ان دونوں کھلاڑیوں کی معطلی کا فیصلہ درست ہے، اسے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔'

جبکہ ایک صارف محمد باقر نے انتہائی جذباتی انداز میں لکھا: 'کیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟'

بشریٰ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’پاکستانی کھلاڑیوں کو بکیز سے بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ انھیں کمرے میں بند کر دیا جائے اور ان کے موبائل لے لیے جائیں۔‘

انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک صارف موہت چوہدری نے ٹویٹ کی : ’شرجیل اور خالد لطیف پر فکسنک کے الزام میں پابندی پاکستان کرکٹ کے لیے بڑا دھچکا۔‘

عرفان نامی ایک صارف نے لکھا: ’اگر ان دونوں پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو رعائت نہیں برتنی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ اس سے قبل محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کو سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے پر جیل کی سزاکاٹ چکے ہیں، جس میں محمد عامر اور محمد آصف نے جان بوجھ کر نو بالز کروائی تھیں۔

اس کے علاوہ حال ہی میں انڈیا میں ہونے والی انڈین کرکٹ لیگ میں بھی اس قسم کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیئر لیگ میں سپاٹ فکسنگ کے قصوروار کھلاڑی اجیت چنڈیلا پر عمر بھر کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

دہلی پولیس نے 16 مئی 2013 کو راجستھان رائلز کے ایس سری سانت، اجیت چنڈيلا اور انکیت چوہان اور 16 سٹے بازوں کو میچ فکسنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

اسی بارے میں