فکسنگ سے چھٹکارا پانے کے لیے پاکستان کے پاس سنہری موقع

وسیم اکرم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

90 کی دہائی میں پاکستان کرکٹ کی وجہ شہرت دو ڈبلیوز کی تباہ کن بولنگ کے علاوہ ہر دو کی ٹیم میں گروپنگ اور میچ فکسنگ کے لاتعداد الزامات بھی تھے۔ جب پانی سر سے گزرنے لگا تو جسٹس قیوم سے تحقیقات کرائی گئیں جنھوں نے تمام تر برائی کی جڑ سلیم ملک کو قرار دیتے ہوئے ان پہ تاحیات پابندی عائد کر دی۔

وسیم اکرم کو چند لاکھ جرمانہ ہوا اور دیگر کو علامتی سزائیں دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔

٭’کیوں شرجیل اور خالد لطیف کیوں؟‘

کئی سال بعد جب وسیم اکرم اور جسٹس قیوم دونوں ریٹائر ہو چکے تھے، جسٹس قیوم نے ایک اخباری انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ وہ ذاتی طور پہ وسیم اکرم کے بہت بڑے مداح تھے سو انھوں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں وسیم اکرم کو ’شک کا فائدہ‘ دیا تھا۔

یہ بہرحال انھوں نے واضح نہیں کیا تھا کہ اس ’شک‘ کے فائدے سے کسی اور نے بھی فیض پایا یا پھر اکیلے وسیم اکرم ہی اس معیار پہ پورے اترے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جسٹس قیوم نے تمام تر برائی کی جڑ سلیم ملک کو قرار دیا اور ان پہ تاحیات پابندی عائد کر دی

2003 میں وسیم، وقار اور ان کے دیگر ساتھی ریٹائر ہو گئے۔ اس کے بعد کئی سال تک پاکستان کرکٹ فکسنگ کے الزامات سے محفوظ رہی تاآنکہ ورلڈ کپ 2007 میں پاکستان آئرلینڈ سے ہار گیا۔ تب باب وولمر کے انتقال اور اس ہار کو نتھی کر کے فکسنگ الزامات کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کی کوشش کی گئی مگر کچھ بھی ثابت نہ ہو پایا۔

2009 کے سڈنی ٹیسٹ میں پاکستان کی حیران کن شکست نے ایک بار پھر فکسنگ الزامات کو زندہ کر دیا۔ مگر پی سی بی نے ان الزامات کو درخور اعتنا نہ جانا اور پھر 2010 کا لارڈز ٹیسٹ آ گیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا بھیانک ترین باب ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر پہلے نہیں تو کم از کم سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد ہی پی سی بی یہ طے کر لیتا کہ اسے ایسے مشکوک کرداروں کے بارے آئندہ کیا لائحہ عمل اپنانا ہے۔ آئی سی سی کا کام تو کھیل کو شفاف رکھنا ہے، سو وہ اپنی طرف سے چند سال کی پابندی ہی عائد کر سکتی ہے مگر پی سی بی کی ذمہ داری صرف کھیل کو شفاف رکھنا ہی نہیں، پاکستان کے امیج کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سپر لیگ کے دوران ’بک میکرز سے رابطہ‘، شرجیل خان اور خالد لطیف معطل

یہ فیصلہ کر لیا جانا چاہئے تھا کہ جن کھلاڑیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوا، کیا وہ دوبارہ پاکستان کرکٹ سے وابستہ ہونے کا حق رکھتے ہیں؟ کیا ان کی واپسی سے پاکستان کرکٹ پھر سے شبہات کی زد میں نہیں آ جائے گی؟

مگر ایسا کوئی بھی فیصلہ نہ کیا جا سکا۔

اب کی بار پی سی بی نے ایک اچھی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ شرجیل اور خالد کو فوری طور پر واپس پاکستان بھیجا گیا۔ عرفان اور دیگر سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے۔ پی سی بی کے اس اقدام سے جہاں پی ایس ایل کی شفافیت واضح ہوتی ہے وہیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ پی سی بی فکسنگ کے معاملے میں اب کی بار کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مگر کیا صرف معطلی اور تحقیقات ہی کافی ہیں؟

اور پھر اس میڈیائی طبقے کا کیا جو آج تو اس مسئلے پہ سب سے زیادہ شور مچا رہا ہے لیکن کل کلاں یہی طبقہ انھی کھلاڑیوں کی معصومیت ثابت کرنے اور ٹیم میں واپسی کی راہ ہموار کرنے میں لگ جائے گا۔

وہ لوگ جنھوں نے 2010 کے سپاٹ فکسنگ سکینڈل پر سب سے اونچی آواز میں بین کیے تھے، تین سال بعد محمد عامر کے حق میں پروگرام کر رہے تھے اور اس کی ٹیم میں واپسی کے مطالبے کر رہے تھے۔ اور اسی پہ موقوف نہیں، وہی ماہرین آج بھی سلمان بٹ اور محمد آصف کی واپسی کے لیے بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔

Image caption سپاٹ فکسنگ پر سلمان بٹ اور محمد آصف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی

جب ایک کھلاڑی کو یہ معلوم ہو کہ اگر وہ پکڑا بھی گیا تو صرف چند سال کی پابندی کے بعد پھر وہی قوم کی امیدوں کا محور ٹھہرے گا، اسی کی واپسی کے لیے ٹاک شوز برپا ہوں گے اور قوم اسے ’معاف‘ بھی کر دے گی تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ صرف کھیل کی شفافیت کا جھنڈا اونچا کرنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کو لات مار دے؟

مگر ساری ذمہ داری پی سی بی اور میڈیا پر ڈالنا بھی بجائے خود درست نہیں ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں بھی اب یہ طے کر لینا چاہیے کہ ہمارے اصل ہیرو کون ہیں۔ یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ ہر عظیم بولر اور ہر بہترین بیٹسمین قومی ہیرو نہیں ہوا کرتا۔

کرکٹ جینٹل مین کی گیم ہے اور کوئی بھی اس گیم سے بڑا نہیں ہے خواہ وہ ہنسی کرونئے جیسا بہترین کپتان ہو یا اظہرالدین جیسا لاجواب بیٹسمین۔ بھارت اور جنوبی افریقہ بہت پہلے یہ جان گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں