پی ایس ایل: عرفان کے خلاف تحقیقات جاری، شرجیل اور خالد کو شوکاز نوٹس

محمد عرفان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے بتایا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں جاری پاکستان سپر لیگ کے دوران بکیز سے روابط کے الزام میں محمد عرفان کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جبکہ اسی الزام میں معطل کیے جانے والے شرجیل خان اور خالد لطیف کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

پیر کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہریار خان نے یہ بھی کہا کہ ابتدا میں جن دیگر دو کھلاڑیوں شاہ زیب حسن اور ذوالفقار بابر کے خلاف تحقیقات کی گئیں انھیں اس سلسلے میں کلین چٹ دے دی گئی ہے۔

سپر لیگ کے دوران ’بک میکرز سے رابطہ‘: عرفان، ذوالفقار، شاہ زیب سے پوچھ گچھ

سپر لیگ کے دوران ’بک میکرز سے رابطہ‘، شرجیل خان اور خالد لطیف معطل

شہریار خان نے انکشاف کیا کہ جس شام معطل کیے جانے والے کھلاڑیوں نے مشکوک افراد سے ملاقات کی اسی دوپہر انھیں اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے لیکچر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے آغاز کے دوسرے ہی دن ٹورنامنٹ کی انتظامیہ نے اسلام آباد یونائیٹڈ سے تعلق رکھنے والے بلے بازوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کر دیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف یہ کارروائی ایک بین الاقوامی سنڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ان کے رابطے کے بعد عمل میں آئی تھی جو پاکستان سپر لیگ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

معطلی کے بعد ان دونوں کھلاڑیوں کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا اور اب پی سی بی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ انھیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

شہریار خان نے کہا کہ ان دونوں کھلاڑیوں کو اپنے دفاع اور موقف بیان کرنے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محمد عرفان اگرچہ تاحال زیرِ تفتیش ہیں تاہم انھیں ابھی تک شوکاز نوٹس جاری کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پاکستان سپر لیگ کا آغاز جمعرات کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان میچ سے ہوا تھا جس میں شرجیل خان اور محمد عرفان اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم میں شامل تھے جبکہ خالد لطیف یہ میچ نہیں کھیلے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شہریار خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ کے دوران رونما ہونے والا واقعہ کسی حد تک تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’جس دن یہ میچ ہو رہا تھا جس میں یہ لڑکے ملوث ہوئے ہیں، اسی دن میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ نے لڑکوں کو لیکچر دیا اور انھیں بتایا کہ ان چیزوں سے گریز کریں، انھیں بتایا کہ مافیا آپ سے بات چیت کرنا چاہے گی، آپ کو ورغلائے گی۔ آپ محتاط رہیں۔‘

شہر یار خان نے کہا کہ ’دوپہر دو بجے کے قریب یہ بات ہو رہی تھی اور اسی شام کو یہ لڑکے پھر بھی چلے گئے۔‘

ان کا کہنا تھا 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس شرمناک حرکت کی ایک وجہ تعلیم کی کمی ہے اور اگر آپ کے پاس پڑھے لکھے لڑکے آئیں تو میرے خیال میں اس سے بہتری آئے گی۔'

دبئی میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں شہریار خان نے کہا کہ ’اس تمام واقعے میں مرکزی کردار ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ نے ادا کیا ہے۔ ہم نے آئی سی سی کو تمام واقعے سے آگاہ کر دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے مطابق 'ہم لوگ غلطی کرنے والے لڑکوں کو نوٹس دیں گے، ہم ہی انھیں سزا دیں گے، یہ سب چیزیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔‘

شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اسی لیے ہر شخص کو اس ٹورنامنٹ سے دلچسپی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا 'چونکہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونا ہے اس لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور اگر اس پر کوئی دھبہ آتا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت افسوس ناک بات ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں